تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 89
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة ال عمران۔اُٹھائی جائے گی جیسا کہ اللہ جل بھائہ ہمارے سید و مولی کا اعلیٰ مقام ظاہر کرنے کی غرض سے قرآن شریف میں فرماتا ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ درجت (البقرة : ۲۵۴) - یعنی یہ تمام رسول اپنے مرتبہ میں یکساں نہیں بعض اُن میں سے وہ ہیں جن کو روبرو کلام کرنے کا شرف بخشا گیا اور بعض وہ ہیں جن کا رفع درجات سب سے بڑھ کر ہے۔اس آیت کی تفسیر احادیث نبویہ میں یہی بیان کی گئی ہے کہ موت کے بعد ہر یک نبی کی روح آسمان کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور اپنے درجہ کے موافق اس روح کو آسمانوں میں سے کسی آسمان میں کوئی مقام ملتا ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس مقام تک اس روح کا رفع عمل میں آیا ہے تا جیسا کہ باطنی طور پر اس روح کا درجہ تھا خارجی طور پر وہ درجہ ثابت کر کے دکھلایا جائے۔سو یہ رفع جو آسمان کی طرف ہوتا ہے تحقیق درجات کے لئے وقوع میں آتا ہے اور آیت مذکورہ بالا میں جو رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ ہے یہ اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع تمام نبیوں کے رفع سے بلند تر ہے اور اُن کی رُوح مسیح کی روح کی طرح دوسرے آسمان میں نہیں اور نہ حضرت موسیٰ کی روح کی طرح چھٹے آسمان میں بلکہ سب سے بلند تر ہے اسی کی طرف معراج کی حدیث تصریح دلالت کر رہی ہے بلکہ معالم النبوۃ میں بصفحہ ۵۱۷ یہ حدیث لکھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں چھٹے آسمان سے آگے گزر گئے تو حضرت موسیٰ نے کہا: رَبِّ لَمْ أَظُنُّ أَنْ يُرْفَعَ عَلَى احد یعنی اے میرے خداوند ! مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ کوئی نبی مجھ سے اوپر اُٹھایا جائے گا اور اپنے رفع میں مجھ سے آگے بڑھ جائے گا۔اب دیکھو کہ رفع کا لفظ محض تحقق درجات کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور آیت موصوفہ بالا کے احادیث نبویہ کی رو سے یہ معنے کھلے کہ ہر یک نبی اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگر چہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہومگر پھر بھی اُس آسمان سے اُس کا تعلق ہوتا ہے جو اس کی روح کے لئے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اُس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لئے حد رفع مقر ر کیا گیا ہے۔چنانچہ وہ حدیث جس میں عام طور پر موت کے بعد روحوں کے اُٹھائے جانے کا ذکر ہے اس بیان کی مؤید ہے اور چونکہ یہ بحث نہایت صریح اور صاف ہے اور کسی قدر ہم پہلے لکھ بھی چکے ہیں اس لئے کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو زیادہ طول دیا جائے۔اس مقام میں یہ بھی بیان کرنے کے لائق ہے کہ بعض مفسروں نے جب دیکھا کہ در حقیقت انی