تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 88
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۸ سورة ال عمران انصاف کی آنکھ سے دیکھنا چاہیئے کہ جس طرح حضرت مسیح کے حق میں اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اني متوفيك فرمایا ہے اس طرح ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے: وَلِما نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُم أوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس :۴۷) یعنی دونوں جگہ مسیح کے حق میں اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تو ٹی کا لفظ موجود ہے پھر کس قدر نا انصافی کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولی کی نسبت جو توبی کا لفظ آیا ہے تو اس جگہ تو ہم وفات کے ہی معنے کریں اور اُسی لفظ کو حضرت عیسی کی نسبت اپنے اصلی اور شائع متعارف معنوں سے پھیر کر اور اُن متفق علیہ معنے سے جو اوّل سے آخر تک قرآن شریف سے ظاہر ہورہے ہیں انحراف کر کے اپنے دل سے کچھ اور کے اور معنے تراش لیں۔اگر یہ الحاد اور تحریف نہیں تو پھر الحاد اور تحریف کس کو کہتے ہیں !!! جس قدر مبسوط تفاسیر دنیا میں موجود ہیں جیسے کشاف اور معالم اور تفسیر رازی اور ابن کثیر اور مدارک اور فتح البیان سب میں زیر تغییر يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ یہی لکھا ہے کہ إِنِّي مُميتك حنف أنفك یعنی اے عیسی میں تجھے طبعی موت سے مارنیوالا ہوں بغیر اس کے کہ تو مصلوب یا مضروب ہونے کی حالت میں فوت ہو۔غایت مافی الباب بعض مفسرین نے اپنی کو تہ اندیشی سے اس آیت کی اور وجوہ پر بھی تفسیریں کی ہیں۔لیکن صرف اپنے بے بنیاد خیال سے نہ کسی آیت یا حدیث صحیح کے حوالہ سے۔اگر وہ زندہ ہوتے تو اُن سے پوچھا جاتا کہ حق کے ساتھ تم نے باطل کو کیوں اور کس دلیل سے ملایا؟ بہر حال جب وہ اس بات کا اقرار کر گئے کہ مجملہ اقوال مختلفہ کے یہ بھی ایک قول ہے کہ ضرور حضرت مسیح فوت ہو گئے تھے اور ان کی روح اُٹھائی گئی تھی تو ان کی دوسری لغزشیں قابل عفو ہیں ان میں سے بعض جیسا کہ صاحب کشاف خود اپنی قلم سے دوسرے اقوال کو قبیل کے لفظ سے ضعیف ٹھہرا گئے ہیں۔اب جبکہ توفی کے لفظ کی بخوبی تحقیقات ہو چکی اور ثابت ہو گیا کہ تمام قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک یہ لفظ فقط روح کے قبض کرنے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے تو اب یہ دیکھنا باقی رہا کہ اس کے بعد جو فقرہ رَافِعُكَ اِلی میں رفع کا لفظ ہے یہ کن معنوں پر قرآن شریف میں مستعمل ہے؟ جاننا چاہیے کہ رفع کا لفظ قرآن شریف میں جہاں کہیں انبیاء اور اخیار ابرار کی نسبت استعمال کیا گیا ہے عام طور پر اس سے یہی مطلب ہے کہ جو ان برگزیدہ لوگوں کو خدائے تعالی کی جناب میں باعتبار اپنے روحانی مقام اور نفسی نقطہ کے آسمانوں میں کوئی بلند مرتبہ حاصل ہے اس کو ظاہر کر دیا جائے اور ان کو بشارت دی جائے کہ بعد موت و مفارقت بدن اُن کی روح اُس مقام تک جو اُن کے لئے قرب کا مقام ہے