تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 86
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۶ دہریوں کا رڈ بھی منظور ہے جو بعد موت جسم کے روح کی بقا کے قائل نہیں ہیں ۔ - سورة ال عمران جاننا چاہیئے کہ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک توفی کے معنے روح کو قبض کرنے اور جسم کو بیکا چھوڑ دینے کے لئے گئے ہیں اور انسان کی موت کی حقیقت بھی صرف اسی قدر ہے کہ روح کو خدائے تعالیٰ قبض کر لیتا ہے اور جسم کو اس سے الگ کر کے چھوڑ دیتا ہے اور چونکہ نیند کی حالت بھی کسی قدر اس حقیقت میں اشتراک رکھتی ہے اسی وجہ سے مذکورہ بالا دو آیتوں میں نیند کو بھی بطور استعارہ توفی کی حالت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ نیند میں بھی ایک خاص حد تک روح قبض کی جاتی ہے اور جسم کو بے کار اور معطل کیا جاتا ہے لیکن توفی کی کامل حالت جس میں کامل طور پر روح قبض کی جائے اور کامل طور پر جسم بے کار کر دیا جائے وہ انسان کی موت ہے اسی وجہ سے توفی کا لفظ عام طور پر قرآن شریف میں انسان کی موت کے بارے میں ہی استعمال کیا گیا ہے اور اوّل سے آخر تک قرآن شریف اسی استعمال سے بھرا پڑا ہے اور نیند کے محل پر توفی کا لفظ صرف دو جگہ قرآن شریف میں آیا ہے اور وہ بھی قرینہ قائم کرنے کے ساتھ۔ اور ان آیتوں میں صاف طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ اس جگہ بھی توفی کے لفظ سے نیند مراد نہیں ہے بلکہ موت ہی مراد ہے اور اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ نیند بھی ایک موت ہی کی قسم ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے اور جسم معطل کیا جاتا ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ نیند ایک ناقص موت ہے اور موت حقیقی ایک کامل موت ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن شریف میں استعمال کیا گیا ہے خواہ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل ہے یعنی موت پر یا غیر حقیقی معنوں پر یعنی نیند پر ۔ ہر یک جگہ اس لفظ سے مراد یہی ہے کہ روح قبض کی جائے اور جسم معطل اور بے کار کر دیا جائے ۔ اب جبکہ یہ معنے مذکورہ بالا ایک مسلم قاعدہ ٹھہر چکا، جس پر قرآن شریف کی تمام آیتیں جن میں توفی کا لفظ موجود ہے شہادت دے رہی ہیں تو اس صورت میں اگر فرض محال کے طور پر ایک لمحہ کے لئے یہ خیال باطل بھی قبول کر لیں کہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے معنے اني منيك ہے یعنی یہ کہ میں تجھے سُلانے والا ہوں تو اس سے بھی جسم کا اُٹھایا جانا غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس جگہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے معنے از روئے قاعدہ متذکرہ بالا یہی کریں گے کہ میں تجھ پر نیند کی حالت غالب کر کے تیری روح کو قبض کرنے والا ہوں ۔ اب ظاہر ہے کہ انِي مُتَوَفِّيكَ کے بعد جو رَافِعُكَ إِلَی فرمایا ہے یعنی میں تیری روح کو قبض کر کے پھر اپنی طرف اُٹھاؤں گا یہ رافِعُكَ کا لفظ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے لفظ سے