تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 85
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ سورة ال عمران اب چونکہ یہ فرق حقیقت اور مجاز کا صاف طور پر بیان ہو چکا تو جس شخص نے قرآن کریم پر اول سے آخر تک نظر ڈالی ہوگی اور جہاں جہاں توفی کا لفظ موجود ہے بنظر غور دیکھا ہو گا وہ ایمانا ہمارے بیان کی تائید میں شہادت دے سکتا ہے۔ چنانچہ بطور نمونہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ آیات (۱) إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (۲) تَوَفَّنِي مُسْلِمًا (۳) وَ مِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى (۴) تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَئِكَةُ (۵) يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمُ (۶) تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا (۷) رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ (۸) تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (9) وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (١٠) ثُمَّ يَتَوَفَّكُم کیسی صریح اور صاف طور پر موت کے معنوں میں استعمال کی گئی ہیں مگر کیا قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت بھی ہے کہ ان آیات کی طرح مجرد توفی کا لفظ لکھنے سے اس سے کوئی اور معنے مراد لئے گئے ہوں۔ موت مراد نہ لی گئی ہو۔ بلا شبہ قطعی اور یقینی طور پر اوّل سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ در حقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے تو پھر متنازعہ فیہ دو آیتوں کی نسبت جو إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی ہیں، اپنے دل سے کوئی معنے مخالف عام محاورہ قرآن کے گھڑنا اگر الحاد اور تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس جگہ یہ نکتہ بیان کرنے کے لائق ہے کہ قرآن شریف میں ہر جگہ موت کے محل پر توفی کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے، امانت کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا ؟ اس میں بھید یہ ہے کہ موت کا لفظ ایسی چیزوں کے فنا کی نسبت بھی بولا جاتا ہے جن پر فنا طاری ہونے کے بعد کوئی روح اُن کی باقی نہیں رہتی ۔ اسی وجہ سے جب نباتات اور جمادات اپنی صورت نوعیہ کو چھوڑ کر کوئی اور صور قبول کر لیں تو اُن پر بھی موت کا لفظ اطلاق پاتا۔ پاتا ہے جیسے کہتے ہیں کہ یہ لوہا مر گیا اور کشتہ ہو گیا اور چاندی کا ٹکڑہ مر گیا اور کشتہ ہو گیا۔ ایسا ہی تمام یہ جاندار اور کیڑے مکوڑے جن کی روح مرنے کے بعد باقی نہیں رہتی اور مور د ثواب و عقاب نہیں ہوتے اُن کے مرنے پر بھی توفی کا لفظ نہیں بولتے بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ فلاں جانور مر گیا یا فلاں کیڑ ا مر گیا۔ چونکہ خدائے تعالیٰ کو اپنے کلام عزیز میں یہ منظور ہے کہ کھلے کھلے طور پر یہ ظاہر کرے کہ انسان ایک ایسا جاندار ہے کہ جس کی موت کے بعد بکلی اس کی فنا نہیں ہوتی بلکہ اس کی روح باقی رہ جاتی ہے جس کو قابض ارواح اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے اس وجہ سے موت کے لفظ کو ترک کر کے بجائے اس کے توفی کا لفظ استعمال کیا ہے تا اس بات پر دلالت کرے کہ ہم نے اس پر موت وارد کر کے بکلی اس کو فنا نہیں کیا بلکہ صرف جسم پر موت وارد کی ہے اور روح کو اپنے قبضہ میں کر لیا ہے اور اس لفظ کے اختیار کرنے میں