تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 84
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام زمر الانعام ۲۴ L ۸۴ سورة ال عمران اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَبْتُ فِي مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأَخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَهُوَ الَّذِي يَتَوَقِّكُمْ بِأَلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثْكُمُ فِيْهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى اب ظاہر ہے کہ ان تمام مقامات قرآن کریم میں توفی کے لفظ سے موت اور قبض روح ہی مراد ہے اور دومؤخر الذکر آیتیں اگر چہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں مگر در حقیقت ان دونوں آیتوں میں بھی نیند نہیں مراد لی گئی بلکہ اس جگہ بھی اصل مقصد اور مذ عاموت ہے اور یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے اور جیسی موت میں روح قبض کی جاتی ہے نیند میں بھی روح قبض کی جاتی ہے۔سو ان دونوں مقامات میں نیند پر توٹی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینہ، نوم استعمال کیا گیا ہے یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تاہر ایک شخص سمجھ لیوے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔یہ بات ادنی ذی علم کو بھی معلوم ہوگی کہ جب کوئی لفظ حقیقت مسلمہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایسے معنوں پر جن کے لئے وہ عام طور پر موضوع یا عام طور پر مستعمل ہو گیا ہے تو اس جگہ متکلم کے لئے کچھ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کی شناخت کے لئے کوئی قرینہ قائم کرے کیونکہ وہ اُن معنوں میں شائع متعارف اور متبادر الفہم ہے لیکن جب ایک متکلم کسی لفظ کے معانی حقیقت مسلمہ سے پھیر کر کسی مجازی معنی کی طرف لے جاتا ہے تو اس جگہ صراحتاً یا کنا بتا یا کسی دوسرے رنگ کے پیرائے میں کوئی قرینہ اس کو قائم کرنا پڑتا ہے تا اس کا سمجھنا مشتبہ نہ ہو اور اس بات کے دریافت کے لئے کہ متکلم نے ایک لفظ بطور حقیقت مسلمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اور استعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ اور وہ حقیقت مسلمہ کو ایک متبادر اور شائع و متعارف لفظ سمجھ کر بغیر احتیاج قرائن کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے۔مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے اپنے اس مدعا کو ظاہر کر جائے کہ یہ لفظ اپنے اصل معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔لے اس فہرست میں سورۃ یونس کی آیت نمبر ۱۰۵ ( الَّذِى يَتَوَفكُمْ ) درج ہونے سے رہ گئی ہے۔سید عبدالتی نوٹ :۔ان سورتوں کی ان آیات کے نمبر حسب ترتیب یہ ہیں:۔۱۶ ، ۱۹۴، ۱۲، ۳۸،۶۲،۲۴۱،۲۳۵،۳۳،۲۹،۷۸،۹۸، ۶۱،۴۳،۶،۷۱،۷۸ ،۶۸ ،۴ ۱،۱۰۲ ،۴ ۷ ،۲۸،۱۰۵،۵۱،۱۲۷