تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 72
۷۲ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن شریف میں بیان فرمایا ہے وہ بالکل واضح اور بین ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے کر کے دکھا دیا ہے۔آپ کی زندگی کامل نمونہ ہے لیکن باوجود اس کے ایک حصہ اجتہاد کا بھی ہے جہاں انسان واضح طور پر قرآن شریف یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی کمزوری کی وجہ سے کوئی بات نہ پاسکے تو اس کو اجتہاد سے کام لینا چاہئے مثلاً شادیوں میں جو بھاجی دی جاتی ہے اگر اس کی غرض صرف یہی ہے کہ تا دوسروں پر اپنی شیخی اور بڑائی کا اظہار کیا جاوے تو یہ ریا کاری اور تکبر کے لئے ہوگی اس لئے حرام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص محض اسی نیت سے کہ اما بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيَّثُ (الطبخى : ۱۳) کا عملی اخبار (۱۲: کرے اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ پر عمل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے سلوک کرنے کے لئے دے تو یہ حرام نہیں۔پس جب کوئی شخص اس نیت سے تقریب پیدا کرتا ہے اور اس میں معاوضہ ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا غرض ہوتی ہے تو پھر وہ ایک سونہیں خواہ ایک لاکھ کو کھانا دے منع نہیں۔اصل مدار نیت پر ہے نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنادیتی ہے۔( الحکم جلد نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۲ وملفوظات جلد ۲ صفحه ۳۷۹) یعنی متقی وہ ہوتے ہیں جو پہلے نازل شدہ کتب پر اور تجھ پر جو کتاب نازل ہوئی اس پر ( ایمان لاتے ) اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہ امر بھی تکلف سے خالی نہیں۔ابھی تک ایمان ایک مجو بیت کے رنگ میں ہے۔متقی کی آنکھیں معرفت اور بصیرت کی نہیں۔اُس نے تقویٰ سے شیطان کا مقابلہ کر کے ابھی ایک بات کو مان لیا ہے یہی حال اس وقت ہماری جماعت کا ہے۔انہوں نے بھی تقویٰ سے مانا تو ہے اور ابھی وہ نہیں جانتے کہ یہ جماعت کہاں تک نشو و نما الہی ہاتھوں سے پانے والی ہے۔سو یہ ایک ایمان ہے جو بالآخر فائدہ رساں ہوگا۔یقین کا لفظ عام طور پر جب استعمال ہو تو اس سے مراد اس کا ادنیٰ درجہ ہوتا ہے۔یعنی علم کے تین مدارج میں سے ادنی درجہ کا علم یعنی علم الیقین اس درجہ پر اتنا والا ہوتا ہے۔مگر بعد اس کے عین الیقین اور حق الیقین کا مرتبہ بھی تقوی کے مراحل طے کرنے کے بعد حاصل کر لیتا ہے۔تقویٰ کوئی چھوٹی چیز نہیں۔اس کے ذریعہ اُن تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت وقوت پر غلبہ پائی ہوئی ہیں۔یہ تمام قو تیں نفس امارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں۔اگر اصلاح نہ پائیں گے تو انسان کو غلام کر لیں گے۔علم و عقل ہی برے طور پر استعمال ہوکر شیطان ہو جاتے ہیں۔متقی کا کام ان کی