تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 71

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اے سورة البقرة میں سے خرچ کرتے اور دیتے ہی رہتے ہیں۔لکھا ہے کہ ایمان کبھی کسی حال سے، کبھی کسی حال سے قوی ہو جاتا ہے اس کے لئے یہ لکھا ہے کہ اول خود دُعا کرے اور پھر جن پر حُسن ظن ہو ان سے دُعا کرائے۔یہ بھی نہ ہو تو خیرات کرے جب خیرات دیتا ہے تو قبض دور ہو جاتی ہے۔سوالی اگر آ جاوے تو اس کو پہلے ہی جھڑک نہ دے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قبض پیدا ہو جاتی ہے اور پھر کچھ بھی دینے کی توفیق نہیں ملتی اور اگر اس کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے گا تو کچھ دینے کے لئے بھی سینہ کھل جائے گا۔صدقات ایسی چیزیں ہیں کہ اُن سے دنیاوی منازل طے ہو جاتی ہیں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر بڑی بڑی نیکیوں کی توفیق دی جاتی ہے غرض مختلف مدارج اور اسباب ہیں اور یہ اس لئے ہیں کہ متقی اپنے اصلی مرتبہ پر پہنچ جائے یہ دوسرا درجہ اصلاح کا ہے۔اس وقت متقی کا نام صالح رکھا جاتا ہے اس وقت شیطان کمزور ہو جاتا ہے۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ صالح کا درجہ طفیلی درجہ ہے جو تقویٰ سے آتا ہے پہلا درجہ بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اس وقت شبہات سے ایک خطرناک جنگ ہوتی ہے اور شیطان پوری طاقت سے حملہ کرتا ہے مگر اس درجہ میں فساد دور ہو جاتے ہیں شیطان کو بہت سی شکستیں مل چکی ہوتی ہیں اس کی طاقت بہت ہی کمزور ہو جاتی ہے۔اس کے بعد تیسرا درجہ یہ کہ فساد دور ہو کر اخلاق فاضلہ اور خدا کی محبت اندر آ جاتی ہے۔یہ اطمینان کا درجہ ہے اور یہ وہی درجہ ہے جس کو يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْنَةُ (الفجر (۲۸) کہا گیا ہے۔میں اس کے وہ معنی کرتا ہوں جو مجھ پر کھولے گئے ہیں، جب انسان اس درجہ پر پہنچتا ہے ایک قدرتی جذب الی اللہ اس میں پیدا ہو جاتا ہے اور وہ گولی کی طرح لڑھکتا ہوا چلا جاتا ہے اب دور ہنا ناممکن ہے یہ معیت کو چاہتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۱ء صفحه ۲،۱) میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہا روپیہ خرچ کریں اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے۔جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔۔۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں۔آخر وہ خدا کی مددیکھیں گے۔مجموعه اشتہارات، جلد ۲ صفحه ۳۰۸)