تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 63
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳ سورة البقرة ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔نماز ہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خود ز ہر ہے جیسے بیمار کوشیرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزا نہیں آتا۔یہ دین کو درست کرتی ہے۔اخلاق کو درست کرتی ہے۔دنیا کو درست کرتی ہے نماز کا مزاد نیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔لذات جسمانی کے لئے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور یہ مفت کا بہشت ہے جو اُ سے ملتا ہے۔قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کور بوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے ایسے ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔دروازہ بند کر کر کے دُعا کرنی چاہئے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہو۔جو تعلق عبودیت کار بوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پر ہے جس کی تفصیل نہیں ہوسکتی جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے۔اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا لیکن جسے دو چار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے مَنْ كَانَ فِي هذة أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى (بنی اسرائيل : ۷۳) آئندہ کے سب وعدے اسی سے وابستہ ہیں۔انسان کی خداترسی کا اندازہ کرنے کے لئے اس کے التزام نماز کو دیکھنا کافی ہے کہ کس قدر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو شخص پورے پورے اہتمام سے نماز ادا کرتا ہے اور خوف اور بیماری اور فتنہ کی حالتیں اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بے شک خدائے تعالیٰ پر ایک سچا ایمان رکھتا ہے مگر یہ ایمان غریبوں کو دیا گیا دولتمند اس نعمت کو پانے والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۴۰) خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اُس سے محبت کیوں کر کر سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوے گی اور جس قدر محبت الہی میں وہ ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کے لئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۷،۶)