تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 62
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۲ سورة البقرة نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے، التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اُس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گزارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سربسجود رہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے پھر آخر سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کے جواب کے واسطے بولتا اور اُس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے۔بھلا یہ بحر حقیقی نماز کے ممکن ہے ہر گز نہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸،۷) نماز ایسے نہ ادا کرو جیسے مرغی دانے کے لئے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوز و گداز سے ادا کرو اور دُعا ئیں بہت کیا کرونماز مشکلات کی کنجی ہے۔ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دُعا کیا کرو تا اس سے سوز گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گداز نہ ہو اُسے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے۔چاہئے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو۔اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لئے ویسے ہی کھڑا ہو۔اگر جھکو تو دل بھی ا ویسے ہی جھکے اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے۔دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے معرفت بھی ایک شے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے۔جیسے جو شخص قسم الفار ، سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ ان کے نزدیک نہیں جاتا ایسے ہی جب تم کو معرفت ہو گی تو تم گناہ کے نزدیک نہ پھٹکو گے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ یقین بڑھاؤ اور وہ دُعا سے بڑھے گا اور نماز خود دُعا ہے نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے۔۔۔۔۔نماز کی ظاہری صورت پر اکتفا کرنا نادانی ہے اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناواجب ٹیکس لگا ہوا ہے جلدی گلے سے اتر جاوے۔بعض لوگ نماز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دُعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دو گنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دُعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دُعا کرے اس کی نماز ہی نہیں۔چاہئے کہ اپنی نماز کو دُعا سے مثل کھانے اور سرد پانی کے لذیذ اور مزیدار کر لو ایسا نہ ہو کہ اس پر وکیل ہو۔نماز خدا کا حق ہے اُسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے