تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 61

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦١ سورة البقرة خواستگار ہو کیونکہ اُسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اے خدا! ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر تجھے راضی کر لیں ۔ خدا کی محبت ، اُسی کا خوف ، اُسی کی یاد میں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔ پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ أَذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا نِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة : ۱۵۳) یعنی اے میرے بندو ! تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اُس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کا فروالی بات صاف ہے۔ یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں۔ ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہئے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہئے ۔ اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اُس کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسہ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔ اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہونچنا ہے اُس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہو گی اُتنا ہی زیادہ تیزی، کوشش اور محنت اور دیر تک اُسے چلنا ہوگا۔ سو خدا تک پہونچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اُس کا بعد اور دُوری بھی لمبی ۔ پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اُس کے دربار میں پہونچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہونچے گا۔ اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اُسے دل کی تسکین ، آرام اور محبت سے اُس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔ وہ زمانہ جس میں نماز سنوار کر پڑھی جاتی تھی غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔ جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔ درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دُعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔