تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰ ورة البقرة پڑھ لیتے ہیں باقی نوافل اور سکن کو جیسا چاہو طول دو اور چاہئے کہ اس میں گریہ و بکا ہوتا کہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔نماز ایسی شے ہے کہ سیقات کو دور کر دیتی ہے جیسے فرمایا: إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود : ۱۱۵) نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔حسنات سے مراد نماز ہے مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا آخر مر کر خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔۔۔۔۔۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہو جاتی ہے مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور رو بدنیا اور سفلی زندگی میں نگو نسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے؟۔۔۔۔ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔یادرکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں یہ قرب کی کنجی ہے اسی سے کشوف ہوتے ہیں اس سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں یہ دُعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سے سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۱٫۲۴ کتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۲،۱۱) نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اُس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو کہ جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اُسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اُس کی عظمت اور اُس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اُس کے آگے سجدہ میں گر جانا اُس سے اپنی حاجات کا مانگنا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اُس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے۔اُس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اُس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اُس سے اُس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اُس کے فضل کا اُسی سے