تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 59
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ سورة البقرة جاؤ اور ایسے کار بند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہوجائیں۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ را پریل ۱۸۹۹ء صفحه ۷) فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَرْكَبُ يُوصِلُ الْعَبْدَ نماز ایک ایسی سواری ہے جو بندہ کو پروردگار عالم تک إلى رَبِّ الْعِبَادِ فَيَصِلُ بِنا إلى مقام لا پہنچاتی ہے اس کے ذریعہ انسان ایسے مقام تک پہنچ جاتا يَصِلُ إِلَيْهِ عَلَى صَهَوَاتِ الجياد ہے جہاں گھوڑوں کی پیٹھوں پر بیٹھ کر نہیں پہنچ سکتا اور نماز وَصَيْدُهَا لَا يُصَادُ بِالسّهامِ۔وَسِرهَا لا کا شکار ( ثمرات ) تیروں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اس يَظْهَرُ بِالْأَفْلَامِ وَمَنِ الْعَزَمَ هَذِهِ کار از قلموں سے ظاہر نہیں ہو سکتا ہے اور جس شخص نے اس الطَّرِيقَة فَقَدْ بَلَغَ الْحَقِّ وَالْحَقِيْقَةَ وَأَلْفَی طریق کو لازم پکڑا اس نے حق اور حقیقت کو پالیا اور الْحِبَّ الَّذِي هُوَ فِي مُجبِ الْغَيْبِ وَنَجا اس محبوب تک پہنچ گیا جو غیب کے پردوں میں ہے اور مِنَ الشَّكِ وَالرَّيْبِ فَتَرَى أَيَّامَهُ غُرَرًا شک و شبہ سے نجات حاصل کر لی۔پس تو دیکھے گا کہ اس وَكَلامَة دَرَرًا، وَوَجْهَهُ بَدْرًا وَمَقَامَة کے دن روشن ہیں اور اس کی باتیں موتیوں کی مانند ہیں اور صَبْرًا وَمَنْ نَلْ لِلَّهِ فِي صَلَوَاتِهِ أَذَلَّ اس کا چہرہ چودھویں کا چاند ہے۔اس کا مقام صدر نشینی اللهُ لَهُ الْمُلُوكَ۔وَيَجْعَلُ مَالِحًا هَذَا ہے۔جو شخص نماز میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی سے جھکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے بادشاہوں کو جھکا دیتا ہے الْمَمَلُوكَ۔اعجاز اسی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۶۶ ۱۶۷) اور اس مملوک بندہ کو مالک بنا دیتا ہے۔(ترجمہ (مرتب) نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ایک ذوق، اُنس اور سرور بڑھتا ہے۔مگر جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں۔جس سے ان کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دُعا کے لئے کرتے ہیں اور دیر تک دُعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا ( جو مومن کی معراج ہے ) مقصود یہی ہے کہ اس میں دُعا کی جاوے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ /اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کرو جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔فریضہ تو جماعت کے ساتھ