تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 58
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة البقرة نامراد جاتے ہیں وہاں ان کے لئے خزانہ نہیں ہے جس سے وہ لذت اور خوشی حاصل کر سکیں۔۔۔۔۔۔نماز کیا چیز ہے؟ نماز اصل میں رب العزت سے دُعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے جب خدا تعالی اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی اُس وقت سے اس کو نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا۔جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزا آتا ہے اسی طرح پھر گریہ و بکا کی لذت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہو جائے گی۔اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تاکہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دُعائیں مانگنا ضروری ہیں اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو) میہ دُعا کرے کہ اے اللہ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نا بینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آ جاؤں گا۔اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا اُنس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔تو ایسا فضل کرکہ میں نابینا نہ اُٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔جب اس قسم کی دُعا مانگے گا اور اس پر دوام کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر آئے گا کہ اسی بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رفت پیدا کر دے گی۔(احکم جلد ۷ نمبر امورحہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحہ ۱۱) نماز اُس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کر لے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مرنے کے لئے تیار ہو جائے جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچا اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھاتا اُس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔(الحکم جلد ۸ نمبر امورخه ۱۰ ؍ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۳) جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہوتا۔اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔۔۔۔نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہوسکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بڑے ارادے ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو