تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 57

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷ سورة البقرة خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔صرف اتنی شرط ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ اور وہ کچی تبدیلی پیدا کرو۔خدا تعالی میں عجیب در عجیب قدرتیں ہیں اور اس میں لا انتہا فضل و برکات ہیں مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کرو۔اگر سچی محبت ہو تو خدا تعالیٰ بہت دُعائیں سنتا ہے اور تائید میں کرتا ہے لیکن شرط یہی ہے کہ محبت اور اخلاص خدا تعالیٰ سے ہو۔محبت ایک ایسی شے ہے کہ انسان کی سفلی زندگی کو جلا کر ایک نیا اور مصفا انسان بنا دیتی ہے پھر وہ وہ دیکھتا ہے جو پہلے نہیں دیکھتا تھا وہ وہ سنتا ہے جو پہلے نہیں سنتا تھا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ / مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۵) ظنون فاسده والا انسان ناقص الخلقت ہوتا ہے۔چونکہ اس کے پاس صرف رسمی امور ہوتے ہیں اس لئے نہ اس کا دین درست ہوتا ہے نہ دنیا۔ایسے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز کے مطالب سے نا آشنا ہوتے ہیں اور ہر گز نہیں سمجھتے کہ کیا کر رہے ہیں نماز میں تو ٹھونگیں مارتے ہیں لیکن نماز کے بعد دُعا میں گھنٹہ گھنٹہ گزار دیتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ نماز جو اصل دُعا کے لئے ہے اور جس کا مغز ہی دُعا ہے اس میں وہ کوئی دُعا نہیں کرتے۔نماز کے ارکان بجائے خود دُعا کے لئے محرک ہوتے ہیں۔حرکت میں برکت ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیٹھے بیٹھے کوئی مضمون نہیں سوجھتا جب ذرا اُٹھ کر پھرنے لگے ہیں تو مضمون سوجھ گیا ہے۔اس طرح پر سب اعمال کا حال ہے اگر ان کی اصلیت کا لحاظ اور مغز کا خیال نہ ہو تو وہ ایک رسم اور عادت رہ جاتی ہے اس طرح روزہ میں خدا کے واسطے نفس کو پاک رکھنا ضروری ہے لیکن اگر حقیقت نہ ہو تو پھر یہ رسم ہی رہ جاتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۲) جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے۔دیکھو یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ خواہ کوئی ادنی سی بات ہو جب اس کو پسند آجاتی ہے تو پھر دل خواہ مخواہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اسی طرح پر جب انسان اللہ تعالیٰ کو شناخت کر لیتا ہے اور اُس کے حسن و احسان کو پسند کرتا ہے تو دل بے اختیار ہو کر اسی کی طرف دوڑتا ہے اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے۔اصل نماز وہی ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے۔اس زندگی کا مزہ اسی دن آ سکتا ہے جب کہ سب ذوق اور شوق سے بڑھ کر جو خوشی کے سامانوں میں مل سکتا ہے تمام لذت اور ذوق دُعا ہی میں محسوس ہو۔یادرکھو کوئی آدمی کسی موت وحیات کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا خواہ رات کو موت آجاوے یا دن کو۔جو لوگ دنیا سے ایسا دل لگاتے ہیں کہ گویا کبھی مرنا ہی نہیں وہ اس دنیا سے