تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 56

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة علمی تجارب کے ذریعہ سے ماننا پڑتا ہے کہ بے شک دواؤں میں خواص پوشیدہ ہیں اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا ہے سو ایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دُعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ باراستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ ہمارا دُعا کرنا ایک قوت متناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔نماز کا مغز اور روح بھی دُعا ہی ہے جو سورہ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے جب ہم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہیں تو اس دُعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے اُتر تا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۱،۲۴۰) تمہیں چاہئے کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعامانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ہر ایک نماز میں دُعا کے واسطے کئی موقع ہیں۔رکوع، قیام ، قعدہ، سجدہ وغیرہ آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنی پڑتی ہے فجر ، ظہر ، عصر ، مغرب، عشاء اور اس پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں یہ سب دُعا ہی کے لئے موقع ہیں۔اصل غرض اور مغز نماز کا دُعا ہی ہے اور دُعا خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کے موافق ہے۔عام طور پر دیکھو کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بیقرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا جب انسان خدا تعالیٰ کے دروازہ پر گرتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ گرتا ہے اور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور اس پر رحم کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے اس لئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہئے۔یہ خیال غلط اور باطل ہے جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں لاتے ہیں۔اگر وہ حقیقی ایمان پیدا کرتے تو یہ بھی نہ کہتے۔جب کبھی کوئی خدا تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا فضل کیا ہے۔یہ بالکل سچ ہے جو کسی نے کہا ہے : عاشق که شد که یار بحالش نظر نہ کر اے خواجہ درد نیست و گرنه طبیب ہست