تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 55
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو وہ ان امور میں استقلال نہیں دکھا سکتے مگر تا ہم بھی تو بہ اور استغفار بہت کرنی چاہئے کہ کہیں ان میں ہی شامل نہ ہو جاویں جو دین سے بالکل بے پروا ہوتے ہیں اور اپنا مقصود بالذات دنیا کو ہی سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ نماز جو تم لوگ پڑھتے ہو صحابہ بھی یہی نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی نماز سے انہوں نے بڑے بڑے روحانی فائدے اور بڑے بڑے مدارج حاصل کئے تھے۔فرق صرف حضور اور خلوص کا ہی ہے۔اگر تم میں بھی وہی اخلاص ، صدق، وفا اور استقلال ہو تو اسی نماز سے اب بھی وہی مدارج حاصل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کئے تھے۔چاہئے کہ خدا کی راہ میں دکھ اُٹھانے کے لئے ہر وقت تیار رہو۔یادرکھو جب اخلاص اور صدق سے کوشش نہیں کرو گے کچھ نہیں بنے گا۔بہت آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ یہاں سے تو بیعت کر جاتے ہیں مگر گھر میں جا کر جب تھوڑی سی بھی تکلیف آئی اور کسی نے دھمکایا تو جھٹ مرتد ہو گئے۔ایسے لوگ ایمان فروش ہوتے ہیں۔صحابہ کو دیکھو کہ انہوں نے تو دین کی خاطر اپنے سر کٹوا دیے تھے اور جان و مال سب خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے کسی دشمن کی دشمنی کی انہیں پروا تک بھی نہ تھی وہ تو خدا کی راہ میں سب طرح کی تکالیف اُٹھانے اور ہر طرح کے دکھ برداشت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور انہوں نے اپنے دلوں میں فیصلہ کیا ہوا تھا مگر یہ ہیں جو ذرا بھی نمبر دار یا کسی اور شخص نے دھمکایا تو دین ہی چھوڑ دیا ایسے لوگوں کی عبادتیں بھی محض پوست ہی پوست ہوتی ہیں۔ایسوں کی نمازیں بھی خدا تک نہیں پہنچتیں بلکہ اسی وقت ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں اور ان کے لئے لعنت کا موجب ہوتی ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون: ۶،۵) وہ لوگ جو نمازوں کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں ان کی نمازیں نری ٹکریں ہوتی ہیں۔ایسے لوگ ایک سجدہ اگر خدا کو کرتے ہیں تو دوسرا دنیا کو کرتے ہیں۔جب تک انسان خدا کے لئے تکالیف اور مصائب کو برداشت نہیں کرتا تب تک مقبول حضرت احدیت نہیں ہوتا۔دیکھو دنیا میں بھی اس کا نمونہ پایا جاتا ہے اگر ایک غلام اپنے آقا کا ہر ایک تکلیف اور مصیبت میں اور ہر ایک خطر ناک میدان میں ساتھ دیتا ر ہے تو وہ غلام غلام نہیں رہتا بلکہ دوست بن جاتا ہے۔یہی خدا کا حال ہے اگر انسان اس کا دامن نہ چھوڑے اور اسی کے آستانہ پر گرار ہے اور استقلال کے ساتھ وفاداری کرتا رہے تو پھر خدا بھی ایسے کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کے ساتھ دوست والا (احکام جلد نمبر ۳۶ مؤرخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۴،۱۱) معاملہ کرتا ہے۔