تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 54
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴ سورة البقرة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور ان راست بازوں کا جو پہلے ہو گزرے ہیں ان سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا رہتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے افسوس ان نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اُس عالم سے حصّہ نہ رکھتا ہو جہاں سے نماز آتی ہے۔الحکم جلد نمبر ۲ مؤرخه / ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۵) انسان کی زاہدانہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے امن میں رہتا ہے جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ماں کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے اسی طرح پر نماز میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ خدا کے حضور گڑگڑانے والا اپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔یادرکھو اس نے ایمان کا حظ نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے۔بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی ٹھونگیں مارتی ہے ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دُعا شروع کرتے ہیں حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد ختم کرنے میں گزار دیتے ہیں اور حضور الہی سے نکل کر دُعا مانگتے ہیں۔نماز میں دُعا مانگو۔نماز کو دُعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحه ۱) یہ جو نماز پڑھی جاتی ہے اس میں بھی ایک طرح کا اضطراب ہے۔کبھی کھڑا ہونا پڑتا ہے کبھی رکوع کرنا پڑتا ہے اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا اور پھر طرح طرح کی احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان خدا کے لئے دکھ اور مصیبت کو برداشت کرنا سیکھے ورنہ ایک جگہ بیٹھ کر بھی تو خدا کی یاد ہوسکتی تھی پر خدا نے ایسا منظور نہیں کیا۔صلوٰۃ کا لفظ ہی سوزش پر دلالت کرتا ہے۔جب تک انسان کے دل میں ایک قسم کا قلق اور اضطراب پیدا نہ ہو اور خدا کے لئے اپنے آرام کو نہ چھوڑے تب تک کچھ بھی نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ فطرتا اس قسم کے ہوتے ہیں جو ان باتوں میں پورے نہیں اتر سکتے اور پیدائشی طور پر ہی ان میں