تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ سورة البقرة ہوا کہ گناہ سے پاک کرنا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے اپنی طاقت سے کوئی نہیں ہوسکتا ہاں یہ سچ ہے کہ اس کے لئے سعی کرنا ضروری امر ہے۔غرض وہ اندر جو گناہوں سے بھرا ہوا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور قرب سے دور جا پڑا ہے اس کو پاک کرنے اور دور سے قریب کرنے کے لئے نماز ہے۔اسی ذریعہ سے ان بدیوں کو دور کیا جاتا ہے اور اُس کی بجائے پاک جذبات بھر دیئے جاتے ہیں یہی سر ہے جو کہا گیا ہے کہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا نماز فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔پھر نماز کیا ہے؟ یہ ایک دُعا ہے جس میں پورا دور د اور سوزش ہو اسی لئے اس کا نام صلوۃ ہے کیونکہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بدا را دوں اور۔بُرے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کر دے۔صلوٰۃ کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ برے الفاظ اور دُعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش رفت اور در دساتھ ہو۔خدا تعالیٰ کسی دُعا کو نہیں سنتا جب تک دُعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔دُعا مانگنا ایک مشکل امر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں امر کے لئے دُعا کی تھی مگر اُس کا اثر نہ ہوا۔اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بدظنی کرتے ہیں اور مایوس ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ جب تک دُعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دُعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔دُعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دُعا میں لگا رہے پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دُعا قبول ہوگی۔نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دُعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنا ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام، رکوع، سجود کر لیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لئے خواہ اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ایک اور افسوسناک امر پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ہی مسلمان نماز کی حقیقت سے ناواقف تھے اور اس پر توجہ نہیں کرتے تھے اس پر بہت سے فرقے ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے نماز کی پابندیوں کو اڑا کر اس کی جگہ چند وظیفے اور ورد قرار دیئے۔کوئی نوشا ہی ہے کوئی چشتی ہے کوئی کچھ ہے کوئی کچھ۔یہ لوگ اندرونی طور پر اسلام اور احکام الہی پر حملہ کرتے ہیں اور شریعت کی پابندیوں کو توڑ کر ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں یقیناً یا درکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے