تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 49
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة البقرة اور چاء بھی مالک پر گر گئی اگر اس کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو اور تیز و تند ہو کر اس پر جا پڑے تو یہ سفاہت ہوگی ۔ یہ عفو کا مقام ہے کیونکہ اس نے عمداً شرارت نہیں کی ہے اور عفو اس کو زیادہ شرمندہ کرتا اور آئندہ کے لئے محتاط بناتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا شریر ہے کہ وہ ہر روز توڑتا ہے اور یوں نقصان پہنچاتا ہے اس پر رحم یہی ہوگا کہ اس کو سزا دی جاوے۔ پس یہی حکمت ہے مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں ۔ ہر ایک مومن اپنے نفس کا مجتہد ہوتا ہے وہ محل اور موقع کی شناخت کرے اور جس قدر مناسب ہو خرچ کرے میں ابھی بتا چکا ہوں کہ قرآن شریف کی تعلیم حکیمانہ نظام اپنے اندر رکھتی ہے اس کے بالمقابل انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دے وغیرہ وغیرہ کیسی قابل اعتراض ہے کہ اس کی پردہ پوشی نہیں ہوسکتی اور اس کی تمدنی صورت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بڑے سے بڑا نرم خو اور تقدس مآب پادری بھی اس تعلیم پر عمل نہیں کر سکتا اگر کوئی انجیل کی اس تعلیم کا عملی ثبوت لینے کے لئے کسی پادری صاحب کے منہ پر طمانچہ مارے تو وہ بجائے اس کے کہ دوسری گال پھیرے پولیس کے پاس دوڑ ا جاوے گا اور اس کو حکام کے سپرد کر دے گا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انجیل معطل پڑی ہے اور قرآن شریف پر عمل ہو رہا ہے۔ ایک مفلس اور نادار بڑھیا بھی جس کے پاس ایک جو کی روٹی کا ٹکڑا ہے اس ٹکڑے میں سے ایک حصّہ دے کر مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ میں داخل ہو سکتی ہے لیکن انجیل کے طمانچہ کھا کر گال پھیرنے کی تعلیم میں مقدس سے مقدس پادری بھی شامل نہیں ہو سکتا۔ و به بین تفاوت ره از کجاست تا بکجا انجیل تو اس پہلو میں یہاں تک گری ہوئی ثابت ہوتی ہے کہ اور تو اور خود حضرت مسیح بھی اس پر پورا عمل نہ دکھا سکے اور وہ تعلیم جو خود پیش کی تھی عملی پہلو میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ کہنے ہی کے لئے ہے۔ ورنہ چاہئے تھا کہ اس سے پیشتر کہ وہ گرفتار ہوتے خود اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے کر دیتے۔ اور دُعائیں مانگنے اور اضطراب ظاہر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اس سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کر کے بھی دکھاتے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہو جاتا کہ وہ کفارہ ہی کے لئے آئے ہیں کیونکہ اگر ان کی زندگی کا یہی کام تھا کہ وہ خودکشی کے طریق سے دنیا کو نجات دیں اور بقول عیسائیوں کے خدا بجز اس صورت کے نجات دے ہی نہیں سکتا تھا۔ تو ان کو چاہئے تھا کہ جس کام کے لئے وہ بھیجے گئے تھے وہ تو یہی تھا پھر وعظ اور تبلیغ کی ضرورت ہی کیا تھی کیوں نہ آتے ہی یہ کہہ دیا کہ مجھے پکڑو اور پھانسی دے دو تا کہ دنیا کی رستگاری ہو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۳ مؤرخه ۱۰ راپریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۲ تا ۴) غرض قرآن شریف کی تعلیم ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور ذرہ ذرہ اس کے آگے ہے اور اس