تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 43

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة البقرة اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم و صلوۃ تقوی کے تکلف سے بچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا تو اب صوم وصلوٰۃ اعمال نہیں رہے۔ اس موقعہ پر اُنہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے؟ کیونکہ ثواب تو اُس وقت تک تھا جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔ سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے۔ یہ نماز اُس کی ایک غذا ہے۔ اُس کے لئے قُرَّةُ الْعَيْن ہے۔ یہ گویا نقد بہشت ہے۔ مقابل میں وہ لوگ جو مجاہدات میں ہیں وہ گشتی کر رہے ہیں اور یہ نجات پا چکا ہے۔ سو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا سلوک جب ختم ہوا۔ تو اُس کے مصائب بھی ختم ہو گئے ۔ مثلاً ایک مخنث اگر کہے کہ وہ کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تو وہ کونسی نعمت یا ثواب کا مستحق ہے اُس میں تو صفت بد نظری ہے ہی نہیں لیکن ایک مرد صاحب رجولیت اگر ایسا کرے تو ثواب پاوے گا ۔ اسی طرح انسان کو ہزاروں مقامات طے کرنے پڑتے ہیں۔ بعض بعض امور میں اس کی مشتاقی اُس کو قادر کر دیتی ہے۔ نفس کے ساتھ اُس کی مصالحت ہوگئی ۔ اب وہ ایک بہشت میں ہے لیکن وہ پہلا سا ثواب نہیں رہے گا۔ وہ ایک تجارت کر چکا ہے جس کا اب وہ نفع اٹھا رہا ہے لیکن وہ اٹھارہا پہلا رنگ نہ رہے گا۔ انسان میں ایک فعل تکلف سے کرتے کرتے اُس میں طبعیت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک شخص جو طبعی طور سے لذت پاتا ہے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اس کام سے ہٹایا جاوے۔ وہ طبعاً یہاں سے ہٹ نہیں سکتا۔ سو اتقا اور تقویٰ کی حد تک پورا انکشاف نہیں ہوتا وہ ایک قسم کا دعوی ہے۔ اس کے بعد بعد متقی کی شان میں وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ آیا ہے۔ یہاں متقی کے لئے منا کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ اس وقت وہ ایک اعمی کی حالت میں ہے اس لئے کہ جو کچھ خدا نے اُس کو دیا اُس میں سے کچھ خدا کے نام کا دیا۔ حق یہ ہے کہ اگر وہ آنکھ رکھتا تو دیکھ لیتا کہ اس کا کچھ بھی نہیں سب خدا کا ہی ہے۔ یہ ایک حجاب تھا۔ جو اتقا میں لازمی ہے۔ اس حالت انتقا کے تقاضے نے متقی سے خدا کے دیئے میں سے کچھ دلوایا۔ رسول اکرم نے حضرت عائشہ سے ایام وفات میں دریافت فرمایا کہ گھر میں کچھ ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک دینار تھا۔ فرمایا کہ یہ سیرت یگانگت سے بعید ہے کہ ایک چیز بھی اپنے پاس رکھی جاوے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتقا کے درجہ سے گزر کر صلاحیت تک پہنچ چکے تھے۔ اس لئے مِمَّا اُن کی شان میں نہ آیا۔ کیونکہ وہ اندھا ہے جس نے کچھ اپنے پاس رکھا اور کچھ خدا کو دیا لیکن یہ لازمہ متقی تھا کیونکہ خدا کے راہ ( میں ) دینے میں بھی اُسے نفس کے ساتھ جنگ تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ دیا اور کچھ رکھا۔ وہاں رسول اکرم نے سب خدا کو دیا اور اپنے لئے کچھ نہ رکھا۔