تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 35

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵ سورة البقرة تقویٰ ہے کہ انسان اگر چہ عمل کرتا ہے مگر خوف سے جرات نہیں کرتا کہ اسے اپنی طرف منسوب کرے اور اُسے خدا کی استعانت سے خیال کرتا ہے اور پھر اُسی سے آئندہ کے لئے استعانت طلب کرتا ہے پھر دوسری سورت بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ سے شروع ہوتی ہے نماز روزہ زکوۃ وغیرہ سب اسی وقت قبول ہوتا ہے جب انسان متقی ہو اُس وقت خدا تمام داعی گناہ کے اُٹھا دیتا ہے۔بیوی کی ضرورت ہو تو بیوی دیتا ہے دوا کی ضرورت ہو تو دوا دیتا ہے جس شئے کی حاجت ہو وہ دیتا ہے اور ایسے مقام سے روزی دیتا ہے کہ اُسے خبر نہیں البدر جلد نمبرے مؤرخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۱) ہوتی۔جہاں قرآن شریف میں تقویٰ کا ذکر کیا ہے وہاں بتایا ہے کہ ہر ایک علم ( اس سے اُخروی علم مراد ہے زمینی اور دنیوی علم مراد نہیں) کی جڑ تقویٰ ہی ہے اور تمام نیکیوں کی جڑ یہی تقویٰ ہے۔متقی کا خدا تعالیٰ خود متکفل ہوتا ہے اور اس کے لئے عجیب در عجیب نشان ظاہر کرتا ہے۔قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا ھدی للمتقين پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لئے تقویٰ ضروری اصل ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۷،۶) تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔تقویٰ کے معنی ہیں ہر ایک بار یک در باریک رگ گناہ سے بچنا۔تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اس سے بھی کنارہ کرے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مؤرخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) تقویٰ کا اثر اسی دنیا میں متقی پر شروع ہو جاتا ہے یہ صرف اُدھار نہیں ، نقد ہے۔بلکہ جس طرح زہر کا اثر اور تریاق کا اثر فورا بدن پر ہوتا ہے اسی طرح تقویٰ کا اثر بھی ہوتا ہے۔(انظام جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخہ ۰ اراگست ۱۹۰۱ صفحه ۴) میری رائے میں ائمہ ار بعد ایک برکت کا نشان تھے اور ان میں روحانیت تھی کیونکہ روحانیت تقویٰ سے شروع ہوتی ہے اور وہ لوگ در حقیقت متقی تھے اور خدا سے ڈرتے تھے اور ان کے دل کلاب الدنیا سے مناسبت نہ رکھتے تھے۔یا درکھو یہ تقویٰ بڑی چیز ہے۔خوارق کا صدور بھی تقومی ہی سے ہوتا ہے اور اگر خوارق نہ بھی ہوں پھر بھی اور تقویٰ سے عظمت ملتی ہے تقویٰ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کے حاصل ہونے سے انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر نقش وجود مٹا سکتا ہے۔کمال تقویٰ کا یہی ہے کہ اس کا اپنا وجود ہی نہ رہے اور صیقل زدم آن قدر کہ آئینہ نہ ماند کا مصداق ہو جاوے۔اصل میں یہی تو حید اور یہی وحدت وجود تھی جس میں لوگوں نے غلطیاں