تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 34

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴ سورة البقرة یہ بڑے ہوں پس متقی وہ ہے کہ اس احتمال اور شبہ سے بھی بچے اور تینوں مراتب کو طے کرے۔۔۔۔تقویٰ کے مضمون پر ہم کچھ شعر لکھ رہے تھے اُس میں ایک مصرع الہامی درج ہوا وہ شعر یہ ہے ہر اک نیکی کی جڑ یہ انکا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اس میں دوسرا مصرعہ الہامی ہے جہاں تقویٰ نہیں وہاں حسنہ ، حسنہ نہیں اور کوئی نیکی ، نیکی نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی تعریف میں فرماتا ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔قرآن بھی اُن لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔ابتدا میں قرآن کے دیکھنے والوں کا تقویٰ یہ ہے کہ جہالت اور حسد اور بخل سے قرآن شریف کو (نہ) دیکھیں بلکہ نور قلب کا تقویٰ ساتھ لے کر صدق نیت سے قرآن شریف کو پڑھیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مؤرخه ۳۱ /اگست ۱۹۰۱ صفحه ۱۳) ہمارے فقراء نے بہت سی بدعتیں اپنے اندر داخل کر لی ہیں۔بعض نے ہندوؤں کے منتر بھی یاد کئے ہوئے ہیں اور ان کو بھی مقدس خیال کیا جاتا ہے۔ہمارے بھائی صاحب کو ورزش کا شوق تھا ان کے پاس ایک پہلوان آیا تھا۔جاتے ہوئے اس نے ہمارے بھائی صاحب کو الگ لے جا کر کہا کہ میں ایک عجیب تحفہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بہت ہی قیمتی ہے۔یہ کہہ کر اس نے ایک منتر پڑھ کر ان کو سنایا اور کہا کہ یہ منتر ایسا پُر تاثیر ہے کہ اگر ایک دفعہ صبح کے وقت اس کو پڑھ لیا جاوے تو پھر سارا دن نہ نماز کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ وضو کی ضرورت۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے کلام کی ہتک کرتے ہیں۔وہ کلام پاک جس میں هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کا وعدہ دیا گیا ہے خود اس کو چھوڑ کر دوسری طرف بھٹکتے پھرتے ہیں۔انسان کے ایمان میں ترقی تب ہی ہو سکتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ پر چلے اور خدا پر اپنے تو کل کو قائم کرے۔الحکم جلد نمبر ۲۸ مؤرخہ ۱۰ راگست ۱۹۰۷ صفحه ۴) قرآن شریف تقویٰ ہی کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے اگر انسان تقومی اختیار نہ کرے تو اُس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے سعدی کہتا ہے۔کلید در دوزخ است آن نماز که در چشم مردم گزاری دراز الحکم جلد نمبر ۱۴ مؤرخہ ۱۷ /اپریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱) ساری جڑ تقویٰ اور طہارت ہے اسی سے ایمان شروع ہوتا ہے اور اسی سے اس کی آبپاشی ہوتی ہے اور (البدر جلد نمبرے مؤرخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۰) نفسانی جذبات دیتے ہیں۔تقویٰ سے سب شے ہے قرآن نے ابتداء اسی سے کی ہے ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے بھی مُراد