تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 33

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣ سورة البقرة اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی عِلتِ غائی بیان کرنے میں فرمایا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ ( نہیں ) فرمایا کہ هُدًى لِلْفَسِقِينَ يا هُدًى لِلْكَافِرِينَ۔ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آسکتا ہے وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولی اس کی مدتی اور وجود بخش ہے جس سے منگنی کا پہلا تولد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ربوبیت کا ملہ مُسْتَجمعہ کے پورے جوڑ و اتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أخر (المؤمنون: ۱۵) کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے مشتقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ربوبیت ثالثہ کا درجہ ہے جوخلق جدید سے موسوم ہے جس سے متقی لا ہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۶۳ حاشیه ) اللہ تعالیٰ نے قرآن کو بھیج کر بجائے خود ایک روحانی معجزہ دکھایا تا کہ انسان اُن معارف اور حقائق اور روحانی خوارق کو معلوم کرے جن کا اُسے پتہ نہ تھا۔مگر افسوس کہ قرآن کی اس علت غالی کو چھوڑ کر جو ھڈی لِلْمُتَّقِينَ ہے اُس کو صرف چند قص کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے اور نہایت بے پروائی اور خود غرضی سے مشرکین عرب کی طرح أَسَاطِيرُ الْاَولین کہہ کر ٹالا جاتا ہے۔وہ زمانہ تھا آنحضرت صلعم کی بعثت کا اور قرآن کے نزول کا، جب وہ دنیا سے گم شدہ طاقتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اب وہ زمانہ آ گیا جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشینگوئی کی تھی کہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن اُن کے حلق سے قرآن نہ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۴) اُترے گا۔یا درکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ دنیا یر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے جیسے فرما یا وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلعَلَمِينَ (الانبياء : ۱۰۸) اور ایسا ہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ ان کی نظیر نہیں پائی جاسکتی۔اکام جلد و نمبر ۹ مورانه ۱۷ار مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۶) اصول تقویٰ کا یہ ہے کہ انسان عبودیت کو چھوڑ کر الوہیت کے ساتھ ایسا مل جاوے جیسا کہ لکڑی کے تختے دیوار کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتے ہیں اس کے اور خدا کے درمیان کوئی شے حائل نہ رہے۔امور تین قسم کے ہوتے ہیں ایک: یقینی بدیہی یعنی ظاہر دیکھنے میں ایک بات بڑی یا بھلی ہے، دوم: یقینی نظری یعنی ویسا یقین تو نہیں مگر پھر بھی نظری طور پر دیکھنے میں وہ امرا اچھا یا برا ہو ، سوم : وہ امور جو مشتبہ ہوں یعنی اُن میں شبہ ہو کہ شاید