تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 32
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲ سورة البقرة اپنے اعمال کو ظاہر ہونے نہیں دیتے یہی لوگ متقی ہیں۔ میں نے تذکرۃ الاولیاء میں دیکھا ہے کہ ایک مجمع میں ایک بزرگ نے سوال کیا کہ اُس کو کچھ روپیہ کی ضرورت ہے کوئی اُس کی مدد کرے۔ ایک نے صالح سمجھ کر اُس کو ایک ہزار روپیہ دیا۔ اُنہوں نے روپیہ لے کر اسکی سخاوت اور فیاضی کی تعریف کی ۔ اس بات پر وہ رنجیدہ ہوا کہ جب جہاں ہی تعریف ہوگئی تو شاید ثواب آخرت سے محرومیت ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ آیا اور کہا کہ وہ روپیہ اس کی والدہ کا تھا جو دینا نہیں چاہتی۔ چنانچہ وہ روپیہ واپس دیا گیا۔ جس پر ہر ایک نے لعنت کی اور کہا جھوٹا ہے اصل میں یہ رو پید بنا نہیں چاہتا۔ جب شام کے وقت وہ بزرگ گھر گیا۔ تو وہ شخص ہزار روپیہ اُس کے پاس لایا اور کہا کہ آپ نے سر عام میری تعریف کر کے مجھے محروم ثواب آخرت کیا۔ اس لئے میں نے یہ بہانہ کیا ۔ اب یہ روپیہ آپ کا ہے لیکن آپ کسی کے آگے نام نہ لیں۔ بزرگ رو پڑا اور کہا کہ اب تو قیامت تک مورد لعن طعن ہوا کیونکہ کل کا واقعہ سب کو معلوم ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ تو نے مجھے روپیہ واپس دے دیا ہے۔ ایک متقی تو اپنے نفس امارہ کے برخلاف جنگ کر کے اپنے خیال کو چھپاتا ہے اور خفیہ رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اُس خفیہ خیال کو ہمیشہ ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسا ایک بدمعاش کسی بد چلنی کا مرتکب ہو کر خفیہ رہنا چاہتا ہے۔ اُسی طرح ایک مشقی چھپ کر نماز پڑھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کوئی اُس کو نہ دیکھ لے۔ سچا متقی ایک قسم کا ستر چاہتا ہے تقویٰ کے مراتب بہت ہیں لیکن بہر حال تقویٰ کے لئے تکلف ہے۔ اور متقی حالت جنگ میں ہے اور صالح صالح اُس جنگ سے باہر ہے جیسے کہ میں نے مثال کے طور پر اوپر ریا کا ذکر کیا جس سے مشتقی کو آٹھوں پہر جنگ ہے۔ بسا اوقات ریا اور حلم کا جنگ ہو جاتا ہے۔ کبھی انسان کا غصہ کتاب اللہ کے برخلاف ہوتا ہے ۔ گالی سن کر اُس کا نفس جوش مارتا ہے۔ تقویٰ تو اس کو سکھلاتا ہے کہ وہ غصہ ہونے سے باز رہے۔ جیسے قرآن کہتا ہے وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُوا كِرَامًا (الفرقان : (۷۳) ایسا ہی بے صبری کے ساتھ اُسے اکثر جنگ کرنا پڑتا ہے ۔ بے صبری سے مُراد یہ ہے کہ اُس کو راہ تقویٰ میں اس قدر دقتوں کا مقابلہ ہے کہ مشکل سے وہ منزل مقصود پر پہنچتا ہے اس لئے بے صبر ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک کنواں پچاس ہاتھ تک کھودنا ہے اگر دو چار ہاتھ کے بعد کھودنا چھوڑ دیا جاوے تو محض یہ ایک بدظنی ہے۔ اب تقوی کی شرط یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے احکام دیئے اُس کو اخیر تک پہنچائے اور بے صبر نہ ہو جاوے۔ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحه ۳۹ تا ۴۱)