تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 445
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۵ سورة البقرة گولے جن کو عربی میں اعصار کہتے ہیں یعنی بگولے جو کسی تند ہوا کے وقت مدوّر شکل میں زمین پرچکہ پر چکر کھاتے پھرتے ہیں ہواؤں کی کرویت ثابت کرتے ہیں۔ (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۹ حاشیہ ) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَ لَسْتُمْ بِأَخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ اے ایمان والو ! تم ان مالوں میں سے لوگوں کو بطریق سخاوت یا احسان یا صدقہ وغیرہ دو جو تمہاری پاک کمائی ہے۔ یعنی جس میں چوری یا رشوت یا خیانت یا غبن کا مال یا ظلم کے روپیہ کی آمیزش نہیں اور یہ قصد تمہارے دل سے دور رہے رہے کہ نا پاک مال لوگوں کو دو۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۶) يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ ۔ یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت عنایت کرتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو بہت سا مال دیا گیا۔ ( براہین احمد یہ چہار قصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۹۹،۴۹۸) یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا۔ سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بحر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دیئے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقہ اُن کے نفس ، آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں۔ اور تائیدات الہیہ ہر یک تحقیق اور تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان ان کے لئے میسر کر دیتی ہیں جس سے بیان ان کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقعہ ہوتی ہے۔ (براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۳۳، ۵۳۴ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) یعنی خدائے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ۔ پس دیکھنا چاہئے کہ ان آیات میں مسلمانوں کو کس قدر علم و حکمت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۹۲)