تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 443
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۳ سورة البقرة قرب انسان حاصل کرتا ہے تو اس انسان کی طرف بھی ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے جس کا ثبوت سورۃ العادیات میں ہے۔عزیز حکیم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غلبہ حکمت سے بھرا ہوا ہے ناحق کا دکھ نہیں ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹) مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةِ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ في كُلِّ سُنْبُلَةٍ مَائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ یعنی خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں اُن کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویا جاتا ہے تو گو وہ ایک ہی ہوتا ہے مگر خدا اس میں سے سات خوشے نکال سکتا ہے اور ہر ایک خوشہ میں سوڈا نے پیدا کر سکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور در حقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں اور اگر خدا اپنی طرف سے کسی چیز کو زیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین پر باقی نہ رہتا۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۷۱،۱۷۰) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَ قُتِكُمْ بِالْمَنَّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانِ عَلَيْهِ تُرَابُ فَاَصَابَهُ وَابِلَ فَتَرَكَهُ صَلَدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَ اللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ۔یعنی اے احسان کرنے والو! اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بنا چاہئے ، احسان یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ برباد مت کرو۔یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے۔پس اگر دل میں صدق اور اخلاص نہ رہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا۔بلکہ ایک ریا کاری کی حرکت ہو جاتی ہے۔غرض احسان کرنے والے میں یہ ایک خامی ہوتی ہے کہ بھی غصہ میں آکر اپنا احسان بھی یاد دلا دیتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے احسان کرنے والوں کو ڈرایا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۴) اپنی خیرات اور مروت کو احسان رکھنے اور دکھ دینے کے ساتھ باطل مت کرو یعنی اپنے ممنون منت کو کبھی یہ نہ جتلاؤ کہ ہم نے تجھے یہ دیا تھا اور نہ اس کو دکھ دو کیونکہ اس طرح تمہارا احسان باطل ہوگا اور نہ ایسا طریق