تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 442

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۲ سورة البقرة کہ میں ابراہیم کی طرح اطمینان قلب چاہتا ہوں؟ ابراہیم نے تو ترقی ایمان چاہی ہے، انکار نہیں کیا اور پھر اقتراح بھی نہیں کیا بلکہ احیا ء موٹی کی کیفیت پوچھی ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کے سپر د کر دیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ اس مردہ کو زندہ کر کے دکھا ، یا یوں کر! اور پھر اس کا جواب جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ بھی عجیب اور لطیف ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو چار جانور لے یا ان کو اپنے ساتھ بلا لے۔یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ ذبح کر لے کیونکہ اس میں ذبح کرنے کا لفظ نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہلالے جیسے لوگ بٹیر یا تیتر یا بلکل کو پالتے ہیں اور اپنے ساتھ بلا لیتے ہیں پھر وہ اپنے مالک کی آواز سنتے ہیں اور اُس کے بلانے پر آجاتے ہیں۔اسی طرح پر حضرت ابراہیم کو احیاء امانت سے انکار تھا بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مردے خدا کی آواز کس طرح سنتے ہیں؟ اس سے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ ہر چیز طبعاً اور فطرتا اللہ تعالیٰ کی مطیع اور تابع فرمان ہے۔الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۳) سوال : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو پوچھا: رَبِّ ارني كَيْفَ تُنِي الْمَولیٰ اس سے کیا غرض ہے؟ جواب : اس میں اللہ تعالی کا مطلب جس کو ستر الہی سمجھنا چاہئے یہ ہے کہ ہر ایک چیز میری آوازسنتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے پر کوئی شک پیدا نہیں ہوا کیونکہ ہم تو ہر روز دیکھتے ہیں کہ متعفن پانی اغذیہ میں سے جانور پیدا ہو جاتے ہیں۔پیٹ میں بچہ پیدا ہو جاتا ہے کیا وہ پہلے مُردہ نہیں ہوتا ؟ پس واقعات سے انکار کرنے والا تو بڑا احمق ہوتا ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اصل سر سے واقف ہونا چاہتے تھے۔پس خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر ایک چیز میری آواز سنتی ہے جیسے پرندے تمہاری آواز سن کر دوڑے چلے آتے ہیں، اسی طرح ہر ایک چیز میری آواز سنتی اور میرے پاس دوڑی چلی آتی ہے یہاں تک کہ ادویہ اور اغذیہ جو انسان کے پیٹ میں جاتی ہیں اور ہر ذرہ ذرہ میری آواز سنتا ہے۔پس یہاں اللہ تعالی ایمان اور معرفت کا یقین دلانا چاہتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کو خالق سے ایک بار یک کشش ہوتی ہے جیسے کسی کا شعر ہے: کو همه را روئی در خدا دیدم و آن خدا برہمہ ترا دیدم۔۔۔۔غرض اس قصے میں اللہ تعالیٰ کو یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہر ایک چیز اللہ تعالی کی تابع ہے اگر اس سے انکار کیا جاوے تو پھر تو خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔اخیر میں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز اور حکیم بیان کی ہے۔یعنی اس کا غلبہ قہری ایسا ہے کہ ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر رہی ہے بلکہ جب خدا تعالیٰ کا