تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 415
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ سورة البقرة جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو بلکہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں ؛ ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دُعا کرنا جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۶۳، ۴۶۴) یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذنِ الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے؟ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۲۹) یا درکھو! کہ خدائی کے دعوی کی حضرت مسیح پر سراسر تہمت ہے ، انہوں نے ہرگز ایسا دعوی نہیں کیا۔جو کچھ انہوں نے اپنی نسبت فرمایا ہے وہ الفاظ شفاعت کی حد سے بڑھتے نہیں۔سونبیوں کی شفاعت سے کس کو انکار ہے۔حضرت موسی کی شفاعت سے کئی مرتبہ بنی اسرائیل بھڑکتے ہوئے عذاب سے نجات پاگئے اور میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں اور میری جماعت کے اکثر معز ز خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض کے مبتلا اپنے دکھوں سے رہائی پاگئے اور یہ خبر یں اُن کو پہلے سے دی گئی تھیں۔(لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۳۶) خدا کا قدیم سے قانون قدرت ہے کہ وہ تو بہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے۔اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دُعا بھی قبول کرتا ہے۔چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۷) شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنے بجفت کے ہیں۔اس لئے شفیع وہ ہوسکتا ہے جو دو مقامات کا مظہر اتم ہو۔یعنی مظہر کامل لاہوت اور ناسوت کا ہو۔لاہوتی مقام کا مظہر کامل ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کا خدا کی طرف صعود ہو، وہ خدا سے حاصل کرے اور نا سوتی مقام کے مظہر کا یہ مفہوم ہے کہ مخلوق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا سے حاصل کرے۔وہ مخلوق کو پہنچا دے۔اور مظہر کامل ان مقامات کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس کی طرف اشارہ ہے: دنا فتدلى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدنی۔(النجم :)) ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدوں کامل حصہ مقام لاہوت کا کسی نبی میں نہیں آیا۔اور نا سوتی حصہ چاہتا ہے بشری لوازم کو ساتھ رکھے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام میں یہ ساری باتیں پوری پائی جاتی ہیں۔آپ نے شادیاں بھی کیں، بچے بھی ہوئے، دوستوں کا زمرہ بھی تھا ، فتوحات کر کے اختیاری قوتوں کے ہوتے ہوئے انتقام چھوڑ کر رحم کر کے بھی دکھایا۔جب تک انسان کے پیرا یہ پورے نہ ہوں وہ پوری ہمدردی نہیں کر سکتا، اُس حصہ اخلاق فاضلہ میں وہ نامکمل رہے گا مثلاً جس نے شادی ہی نہیں کی وہ بیوی اور بچوں کے حقوق کی کیا قدر کر سکتا ہے؟ اور ان پر اپنی شفقت اور ہمدردی کا کیا نمونہ دکھا سکتا ہے؟ رہبانیت