تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 413

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۳ سورة البقرة قدیم سے الگ کا الگ چلا آتا ہے اور اس کی ربوبیت کا کسی چیز پر احاطہ نہیں اور کوئی چیز اس سے ظہور پذیر نہیں ہوئی تو اس صورت میں علم کائنات تو اسے کیا ہوگا بلکہ محدود چیزوں میں سے وہ بھی ایک چیز ہوگی جس کا کوئی اور محدد تلاش کرنا پڑے گا۔سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۲۵،۲۲۴ حاشیه ) خدا تعالیٰ کے دو نام ہیں؛ ایک کی دوسرا قیوم کي کے یہ معنے ہیں کہ خود بخودزندہ اور دوسری چیزوں کو زندگی بخشنے والا اور قیوم کے یہ معنے ہیں کہ اپنی ذات میں آپ قائم اور اپنی پیدا کردہ چیزوں کو اپنے سہارے سے باقی رکھنے والا۔پس خدا تعالیٰ کے نام قیوم سے وہ چیز فائدہ اُٹھا سکتی ہے جو پہلے اس سے اس کے نام حی سے فائدہ اُٹھا چکی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ اپنی پیدا کردہ چیزوں کو سہارا دیتا ہے، نہ ایسی چیزوں کو جن کے وجود اور ہستی کو اس کا ہاتھ ہی نہیں چھوا۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کو حتی یعنی پیدا کرنے والا مانتا ہے اُسی کا حق ہے کہ اس کو قیوم بھی مانے۔یعنی اپنی پیدا کردہ کو اپنی ذات سے سہارا دینے والا۔لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو حتی یعنی پیدا کرنے والا نہیں جانتا اس کا حق نہیں ہے کہ اس کی نسبت یہ اعتقا در کھے کہ وہ ان چیزوں کو ، ان کے رہنے میں سہارا دینے والا ہے۔کیونکہ سہارا دینے کے یہ معنے ہیں کہ اگر اس کا سہارا نہ ہو وہ چیزیں معدوم ہو جائیں۔اور ظاہر ہے کہ جن چیزوں کا اس کی طرف سے وجود نہیں وہ چیزیں اپنے بقائے وجود میں اس کی محتاج بھی نہیں ہو سکتیں اور اگر وہ بقائے وجود میں محتاج ہیں تو اس وجود کی پیدائش میں بھی محتاج ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کے یہ دونوں اسم حي و قیوم اپنی تاثیر میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں کبھی علیحدہ علیحدہ نہیں ہو سکتے۔پس جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا روحوں اور ذرات کا پیدا کرنے والا نہیں وہ اگر عقل اور سمجھ سے کچھ کام لیں تو اُن کو اقرار کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ ان چیزوں کا قیوم بھی نہیں۔یعنی وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کے سہارے سے ذرّات یا ارواح پیدا ہوئے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سہارے کی محتاج وہ چیزیں ہیں جو اس کی پیدا کردہ ہیں۔غیر کو جو اپنے وجود میں اس کا محتاج نہیں اس کے سہارے کی کیوں حاجت پڑ گئی ؟ یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۲، ۳۶۳) جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کئے ہیں ؛ الْحَى اور الْقَيُّوم - الْحَیّ کے معنے ہیں خود زندہ اور دوسرں کو زندگی عطا کرنے والا ، القیوم خود قائم اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری، باطنی قیام اور زندگی، انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس حي کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَيُّوم چاہتا ہے کہ اس