تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 412

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۲ سورة البقرة جن کو ہم خیال اور قوت سے بیان نہیں کر سکتے بلکہ کامل طور پر سمجھ بھی نہیں سکتے اپنا کام کر رہے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : اللهُ لا إلهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جو جامع صفات کا ملہ اور ہر ایک نقص سے منزہ ہے وہی مستحق عبادت ہے۔اُسی کا وجود بد یہی الثبوت ہے۔کیونکہ وہ حي بالذات اور قائم بالذات ہے۔اور بجز اس کے اور کسی چیز میں حی بالذات اور قائم بالذات ہونے کی صفت نہیں پائی جاتی۔کیا مطلب کہ اللہ تعالیٰ کے بڑوں اور کسی میں یہ صفت نظر نہیں آتی کہ بغیر کسی علت موجبہ کے آپ ہی موجود اور قائم ہو۔یا کہ اُس عالم کی ، جو کمال حکمت اور ترتیب محکم و موزون سے بنایا گیا ہے، علت موجبہ ہو سکے۔غرض اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان مخلوقات عالم میں تغییر و بدل کر سکتا ہو یا ہر ایک شے کی حیات کا موجب اور قیام کا باعث ہو۔اس آیت پر نظر کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وجودی مذہب حق سے دور چلا گیا ہے اور اُس نے صفات الہیہ کے سمجھنے میں ٹھو کر کھائی ہے۔وہ معلوم نہیں کر سکتا کہ اُس نے عبودیت اور الوہیت کے ہی رشتہ پر ٹھوکر کھائی ہے۔اصل یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُن میں سے جولوگ اہل کشف ہوئے ہیں اور اُن میں سے اہل مجاہدہ نے دریافت کرنا چاہا تو عبودیت اور ربوبیت کے رشتہ میں امتیاز نہ کر سکے اور خلق الاشیاء کے قائل ہو گئے۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۱۳۹،۱۳۸) یعنی خدا ہی جو قابل پرستش ہے کیونکہ وہی زندہ کرنے والا ہے اور اسی کے سہارے سے انسان زندہ رہ سکتا ہے۔یعنی انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو ، تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے۔سو وہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے، اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے۔پس استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے کرتے رہنے کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں ہے: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہوگا دو ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۷۲) هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی حقیقی حیات اس کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اس کے ساتھ زندہ ہیں یعنی در حقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ وہ