تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 411
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۱ سورة البقرة پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ کا وجود دوسری چیزوں کے وجود کا علت ہے اور خالقیت کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں کہ وجود خالق کا ، وجود مخلوق کے لئے علت ہو۔پس ثابت ہو گیا کہ خدا خالق ہے اور یہی پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۶ تا ۱۹) درووو مطلب تھا۔الله لا إله إلا هو الحى القيوم کہ وہی معبود برحق ہر یک چیز کی جان اور ہر یک وجود کا سہارا ہے۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۸) یعنی وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی نہیں وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔اس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے پس جب کہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اُسی کی ذات سے قائم ہے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۰) حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لئے ہیں کوئی اُن میں اُس کا شریک نہیں وہی بذاتہ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعہ سے ہیں۔اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اُس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اُس پر جائز نہیں ایسا ہی ادنیٰ درجہ کا تعطل حواس بھی جو نیند اور اُونگھ سے ہے وہ بھی اُس پر جائز نہیں مگر دوسروں پر جیسا کہ موت وارد ہوتی ہے نیند اور اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔جو کچھ تم زمین میں دیکھتے ہو یا آسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے۔کون ہے جو بغیر اُس کے حکم کے اُس کے آگے شفاعت کر سکتا ہے؟ وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اُس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے اور کوئی اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔اُس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے۔وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے، یہ نہیں کہ کسی چیز نے اُس کو اُٹھا رکھا ہے اور وہ آسمان وزمین اور ان کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اُس کی طرف منسوب کی (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۴،۲۷۳) تمام مخلوقات ، اجرام فلکی سے لے کر ارضی تک اپنی بناوٹ ہی میں عبودیت کا رنگ رکھتی ہے، ہر پٹے سے جائے۔یہ پتہ ملتا ہے ہر شاخ اور آواز سے یہ صدا نکلتی کہ الوہیت اپنا کام کر رہی ہے۔اس کے عمیق در عمیق تصرفات