تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 410
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدا۔ سورة البقرة کے کہ جس کو انہوں نے ستیارتھ پرکاش میں درج فرما کر توحید کا ستیا ناس کیا ہے اور نیز بقول پنڈت کھڑک صاحب کے کہ جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے تقلید پنڈت دیانند صاحب کی اختیار کی ہے، وید میں یہ لکھا ہے کہ سب ارواح اپنی بقاء اور حیات میں بالکل پرمیشر سے بے غرض ہیں اور جیسے بڑھئی کو چوکی سے اور کمہار کو گھڑے سے نسبت ہوتی ہے وہی پر میشر کو مخلوقات سے نسبت ہے یعنی صرف جوڑ نے جاڑنے سے ٹنڈا پرمیشر گری کا چلاتا ہے اور قیوم چیزوں کا نہیں ہے لیکن ہر ایک دانا جانتا ہے کہ ایسا ماننے سے یہ لازم آتا ہے کہ پرمیشر کا وجود بھی مثل کمہاروں اور نجاروں کے وجود کے بقاء اشیاء کے لئے کچھ شرط نہ ہو بلکہ جیسے بعد موت کمہاروں اور بڑھئیوں کے گھڑے اور چوکیاں اسی طرح بنے رہتے ہیں اسی طرح بصورت فوت ہونے پرمیشر کے بھی اشیاء موجودہ میں کچھ خلل بھی واقع نہ ہو سکے ۔ پس ثابت ہوا کہ یہ خیال پنڈت صاحب کا جو پر میشر کو صانع ہونے میں کمہار اور بڑھئی سے مشابہت ہے قیاس مع الفارق ہے۔ کاش! اگر وہ خدا کو قیوم اشیاء ! کا مانتے اور نجاروں سانہ جانتے تو ان کو یہ تو کہنا نہ پڑتا کہ پرمیشر کی موت فرض کرنے سے روحوں کا کچھ بھی نقصان نہیں۔ لیکن شاید وید میں یہی لکھا ہوگا ورنہ میں کیوں کر کہوں کہ پنڈت صاحب کو قیومیت پروردگار میں جو اجلی بدیہیات ہے کچھ شک ہے۔ اور اگر پنڈت صاحب پر میشر کو قیوم سب چیزوں کا مانتے ہیں تو پھر اس کو کمہاروں اور معماروں سے نسبت دینا کسی قسم کی ہدیا ہے۔ اور وید میں اس پر دلیل کیا لکھی ہے؟ دیکھو! فرقان مجید میں صفت قیومی پروردگار کی کئی مقام میں ثابت کی ہے جیسا کہ مکرر اس دوسری آیت میں بھی فرمایا: ہے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) یعنی خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ اسی سے طبقہ سفلی اور علوی میں حیات اور بقا کی روشنی ہے۔ پس اس ہماری تحقیق سے جز اول قیاس مرکب کی ثابت ہوئی اور صغری جزء ثانی قیاس مرکب کا وہی ہے جو جز اول قیاس مرکب کا نتیجہ ہے اور جز اول قیاس مرکب کی ابھی ثابت کا ہو چکی ہے پس نتیجہ بھی ثابت ہو گیا۔ اور کبری جز ثانی کا جو زندہ ازلی ابدی اور قیوم سب چیزوں کا ہو وہ خالق ہوتا ہے۔ اس طرح پر ثابت ہے کہ قیوم اسے کہتے ہیں کہ جس کا بقا اور حیات دوسری چیزوں کے بقا اور حیات اور ان کے کل مایحتاج کے حصول کا شرط ہو اور شرط کے یہ معنے ہیں کہ اگر اس کا عدم فرض کیا جائے تو ساتھ ہی مشروط کا عدم فرض کرنا پڑے جیسے کہیں کہ اگر خدائے تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو۔ پس یہ قول کہ اگر خدائے تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو بعینہ اس قول کے مساوی ہے کہ خدائے تعالیٰ کا وجود نہ ہوتا تو کسی چیز کا وجود نہ ہوتا۔