تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 409

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۰۹ سورة البقرة ایک مخلوقات آسمانوں کا اور مخلوقات زمین کا وہی خالق ہے اور وہی مالک۔اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں وارد ہے بقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے ( جز اول قیاس مرکب کی ) ( صغری ) خدا کو بلا شرکۃ الغیر تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے (کبری) اور جس کو تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق از لی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہوتا ہے ( نتیجہ ) خدا زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہے۔( جز ثانی قیاس مرکب کی کہ جس میں نتیجہ قیاس اوّل کا صغری قیاس کا بنایا گیا ہے ) (صغری ) ( خداوند ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہے ) (کبری) (اور جو زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہو وہ تمام اشیاء کا خالق ہوتا ہے ) ( نتیجہ ) ( خدا تمام چیزوں کا خالق ہے )۔صغری جز اول قیاس مرکب کا یعنی یہ قضیہ کہ خدا کا بلاشركة الغير ے تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے، باقرار فریق ثانی ثابت ہے۔پس حاجت اقامت دلیل کی نہیں اور کبری جز اول قیاس مرکب کا یعنی یہ قضیہ کہ جس کو تمام اشیاء کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی اور تمام اشیاء کا قیوم ہوتا ہے اس طرح پر ثابت ہے کہ اگر خدائے تعالی ازلی ابدی زندہ نہیں ہے تو یہ فرض کرنا پڑا کہ کسی وقت پیدا ہوا یا آئندہ کسی وقت باقی نہیں رہے گا دونوں صورتوں میں ازلی ابدی معبود ہونا اس کا باطل ہوتا ہے کیونکہ جب اس کا وجود ہی نہ رہا تو پھر عبادت اس کی نہیں ہو سکتی کیونکہ عبادت معدوم کی صحیح نہیں ہے اور جب وہ بوجہ معدوم ہونے کے معبود ازلی ابدی نہ رہا تو اس سے یہ قضیہ کا ذب ہوا کہ خدا کو معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے حالانکہ ابھی ذکر ہو چکا ہے کہ یہ قضیہ صادق ہے۔پس ماننا پڑا کہ جس کو تمام اشیاء کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی ہوتا ہے۔اسی طرح اگر خدا تمام چیزوں کا قیوم نہیں یعنی حیات اور بقاء دوسروں کی اس کی حیات اور بقاء پر موقوف نہیں تو اس صورت میں وجود اس کا بقاء مخلوقات کے واسطے کچھ شرط نہ ہو گا۔بلکہ تاثیر اس کی بطور مؤثر بالقسر ہوگی نہ بطور علت حقیقتہ حافظ الاشیاء کے کیونکہ مؤثر بالقسر اسے کہتے ہیں کہ جس کا وجود اور بقاء اس کے متأثر کے بقاء کے واسطے شرط نہ ہو جیسے زید نے مثلاً ایک پتھر چلایا اور اسی وقت پتھر چلاتے ہی مر گیا۔تو بے شک اس پتھر کو جو ابھی اس کے ہاتھ سے چُھٹا ہے بعد موت زید کے بھی حرکت رہے گی۔پس اسی طرح اگر بقول آریہ سماج والوں کے خدائے تعالیٰ کو محض مؤثر بالقسر قرار دیا جائے تو اس سے نعوذ باللہ ! یہ لازم آتا ہے کہ اگر پر میشر کی موت بھی فرض کریں تو بھی ارواح اور ذرات کا کچھ بھی حرج نہ ہو کیونکہ بقول پنڈت دیانند صاحب