تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 408

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۸ سورة البقرة اجسام کو حادث بھی نہیں سمجھا اور اس راز دقیق سے بے خبر رہے کہ حیات حقیقی اور ہستی حقیقی اور قیام حقیقی صرف خدا ہی کے لئے مسلّم ہے۔یہ عمیق معرفت اس آیت سے انسان کو حاصل ہوتی ہے جس میں خدا نے فرمایا کہ حقیقی طور پر زندگی اور بقاء زندگی صرف اللہ کے لئے حاصل ہے جو جامع صفات کاملہ ہے اس کے بغیر کسی دوسری چیز کو وجود حقیقی اور قیام حقیقی حاصل نہیں اور اسی بات کو صانع عالم کی ضرورت کے لئے دلیل ٹھہرایا اور فرمايا: لَهُ مَا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ۔یعنی جبکہ عالم کے لئے نہ حیات حقیقی حاصل ہے نہ قیام حقیقی تو بالضرور اس کو ایک علت موجبہ کی حاجت ہے جس کے ذریعہ سے اس کو حیات اور قیام حاصل ہوا۔اور ضرور ہے کہ ایسی علت موجبہ جامع صفات کا ملہ اور مدتم بالا رادہ اور حکیم اور عالم الغیب ہو۔سو وہی اللہ ہے۔کیونکہ الله بموجب اصطلاح قرآن شریف کے اس ذات کا نام ہے جو تجمع کمالات تامہ ہے اسی وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفات کا ملہ کا موصوف ٹھہرایا ہے اور جابجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ ربّ العالمین ہے، رحمان ہے، رحیم ہے، مدبر بالا رادہ ہے، حکیم ہے، عالم الغیب ہے، قادر مطلق ہے، ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔سو یہ قرآن شریف کی ایک اصطلاح ٹھہرائی گئی ہے کہ اللہ ایک ذات جامع جمیع صفات کاملہ کا نام درووو۔ہے۔اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا: الله لا إله إلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ - یعنی اس عالم بے ثبات کا قیوم، ذات جامع الکمالات ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجود اور مترتب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہیں چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علت موجبہ ہو سکتی ہیں بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سراسر حکمت سے بھرا ہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مدبر بالا رادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفات کا ملہ سے متصف ہو۔سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال تام حاصل ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۱۴ تا ۵۱۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ : لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّبُوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ یعنی خدا اپنی ذات میں سب مخلوقات کے معبود ہونے کا ہمیشہ حق رکھتا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اس دلیل روشن سے کہ وہ زندہ، ازلی ابدی ہے اور سب چیزوں کا وہی قیوم ہے یعنی قیام اور بقاء ہر چیز کا اسی کے بقاء اور قیام سے ہے اور وہی ہر چیز کو ہر دم تھامے ہوئے ہے، نہ اس پر اونگھ طاری ہوتی ہے، نہ نیند سے پکڑتی ہے یعنی حفاظت مخلوق سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔پس جبکہ ہر ایک چیز کی قائمی اسی سے ہے۔پس ثابت ہے کہ ہر