تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 401
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة البقرة ہے ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا یہ ایک طریق ہے۔اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ صفحہ ۷) ایک نادان کہتا ہے کہ: مَنْ ذَ الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ( کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے) اس کا مفہوم یہ ہے کہ گو یا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں سے نکلتا ہے؟ یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے اس کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگا لیتا ہے۔یہاں قرض سے مُراد یہ ہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمالِ صالحہ دے، اللہ تعالیٰ ان کی جزا اسے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کا ربوبیت کے ساتھ ہے اُس پر غور کرنے سے اُس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خدا تعالی بدوں کسی نیکی ، دعاء اور التجا اور بدوں تفرقہ کا فرو مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچارہا ہے پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا اُس کی شان تو یہ ہے : مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ ( الزلزال :۸) جو ذرہ بھی نیکی کرے اُس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا اُس کی پاداش بھی ملے گی۔یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا تھا اس لئے یہی کہہ دیا: مَنْ دَالَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ (الزلزال : ٨) الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰ رنجون ۱۹۰۱ صفحه ۳) فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنّى وَ مَنْ لَمْ يَطْعَمُهُ فَإِنَّهُ مِنَى إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةٌ بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا اللَّهِ كَمْ (۲۵٠ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللهُ مَعَ الصُّبِرِينَ کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین دوست پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کو جوز مین پر تھا مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ،مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اُس دوسرے کی طرف