تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 372

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۷۲ سورة البقرة لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے۔طرح طرح کے عذاب، خوف، خون، فقر و فاقے ، امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں اُلجھن غرض یہ سب آگ ہیں۔تو مومن دُعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۰،۹) b وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَ اللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ یعنی انسانوں میں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں۔وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے ایسا ہی وہ شخص جو روحانی حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو اطاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے اور پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں۔ایسے ذوق و شوق و حضور دل سے بجالاتا ہے کہ گویا وہ اپنی فرماں برداری کے آئینہ میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے اور ارادہ اس کا خدائے تعالیٰ کے ارادہ سے ہمرنگ ہو جاتا ہے اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے اور تمام اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذذ اور احتفاظ کی کشش سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔یہی وہ نقد بہشت ہے جو روحانی انسان کو ملتا ہے اور وہ بہشت جو آئندہ ملے گاوہ درحقیقت اسی کے اظلال و آثار ہیں جس کو دوسرے عالم میں قدرت خداوندی جسمانی طور پر متمثل کر کے دکھلائے گی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۵) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی