تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 371

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۱ سورة البقرة کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔اصل میں انسان نے اپنے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے حیلوں اور دغابازیوں پر اسے پورا بھروسہ ہوتا ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اُس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اُس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں جب تک اُن سب کو ترک کر کے اُن سے بیزار ہو کے اس واحد لاشریک بچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اُس کے آستانہ پر نہ گرے تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دلسوزی اور جانگدازی سے اُس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اُسے مخاطب کرتا ہے کہ ربنا یعنی اصلی اور حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے اب میں نے اُن جھوٹے بُتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدقِ دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں تیرے آستانہ پر آ تا ہوں۔غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے۔جب تک انسان کے دل سے دوسرے رب اور اُن کی قدر و منزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اُس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اُٹھاتا۔بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بڑوں گزارا ہی مشکل ہے۔بعض چوری اور ہرنی اور فریب وہی ہی کو اپنا رب بنائے ہوئے ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا اُن کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں۔سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔دیکھو! ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقع بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اُس کا رزق آ سکتا ہے۔وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے اُن کو خدا سے استعانت اور دُعا کرنے کی کیا حاجت؟ دُعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اُس در کے نہ ہو اسی کے دل سے دُعا نکلتی ہے۔غرض ربنا اتنا في الدُّنْيَا الخ ایسی دُعا کرنا صرف اُنہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور اُن کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ بیچ ہیں۔آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہوگی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ