تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 370
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٧٠ سورة البقرة فرما تا بلکہ حسنة الدنیا کی دُعا تعلیم فرماتا ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۴،۳) انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب، شدائد، ابتلا وغیرہ اسے پیش آتے ہیں ان سے امن میں رہے۔دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور کرتی ہیں۔ان سے نجات پاوے تو دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلت سے محفوظ رہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء :۲۹)۔ایک ناخن میں ہی درد ہو تو زندگی بے مزا ہو جاتی ہے۔میری زبان کے تلے ذرا درد ہے۔اس سے سخت تکلیف ہے۔اسی طرح جب انسان کی زندگی خراب ہوتی ہے جیسے بازاری عورتوں کا گروہ۔کہ ان کی زندگی کیسی ظلمت سے بھری ہوئی اور بہائم کی طرح ہے کہ خدا اور آخرت کی کوئی خبر نہیں۔تو دنیا کا حسنہ یہی ہے کہ خدا ہر ایک پہلو سے خواہ وہ دنیا کا ہو خواہ آخرت کا ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔اور فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ میں جو آخرت کا پہلو ہے وہ بھی دنیا کی حسنہ کا ثمرہ ہے اگر دنیا کا حسنہ انسان کومل جاوے تو وہ فال نیک آخرت کے واسطے ہے۔یہ غلط ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا حسنہ کیا مانگنا ہے آخرت کی بھلائی ہی مانگو۔صحت جسمانی وغیرہ ایسے امور ہیں جس سے انسان کو دنیا میں آرام ملتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے وہ آخرت کے لئے کچھ کر سکتا ہے اور اسی لئے دنیا کو آخرت کا مزرعہ کہتے ہیں اور در حقیقت جسے خدا دنیا میں صحت ، عزت ، اولاد، اور عافیت دیوے اور عمدہ عمدہ اعمال صالح اس کے ہوں تو امید ہوتی ہے کہ اُس کی آخرت بھی اچھی ہوگی۔البدر جلد اوّل نمبر ۱۰ مورخه ۲ /جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۷) تو بہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا و دین دونوں سنور جاتے ہیں۔اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان میں دونوں میں آرام اور سچی خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔دیکھو! قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ربنا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے ہمارے رب ! ہمیں اس دنیا میں بھی آرام و آسائش کے سامان عطا فرما۔اور آنے والے جہان میں بھی آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔دیکھو! در حقیقت ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ ربنا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور ر توں کو جو اُس نے پہلے بنائے ہوئے تھے اُن سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔رب کہتے ہیں بتدریج