تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 365

۳۶۵ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذریعہ اُسے مدامی طور پر رکھتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اصل انوار تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اور نبی ہو یا کوئی اور سب خدا سے انہیں حاصل کرتے ہیں۔سچے نبی کی یہی علامت ہے کہ وہ اس روشنی کی حفاظت بذریعہ استغفار کے کرے۔استغفار کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ موجودہ نور جو خدا سے حاصل ہوا ہے وہ محفوظ رہے اور زیادہ اور ملے۔اسی کی تحصیل کے لئے پنجگاہ نماز بھی ہے تا کہ ہر روز دل کھول کھول کر اُس روشنی کو خدا سے مانگ لیوے۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مؤرخه ۸ رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳) یہ جو فر ما یا کہ وہ ہمیشہ اپنی مغفرت چاہیں گے۔اس جگہ سوال یہ ہے کہ جب بہشت میں داخل ہو گئے تو پھر مغفرت میں کیا کسر رہ گئی اور جب گناہ بخشے گئے تو پھر استغفار کی کون سی حاجت رہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مغفرت کے اصل معنے یہ ہیں : نا ملائم اور ناقص حالت کو نیچے دبانا اور ڈھانکنا۔سو بہشتی اس بات کی خواہش کریں گے کہ کمال تام حاصل کریں اور سراسر نور میں غرق ہو جائیں۔وہ دوسری حالت کو دیکھ کر پہلی حالت کو ناقص پائیں گے۔پس چاہیں گے کہ پہلی حالت نیچے دبائی جائے۔پھر تیسرے کمال کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ دوسرے کمال کی نسبت مغفرت ہو یعنی وہ حالت نا قصہ نیچے دبائی جاوے اور مخفی کی جاوے۔اسی طرح غیر متناہی مغفرت کے خواہشمند رہیں گے۔یہ وہی لفظ مغفرت اور استغفار کا ہے جو بعض نادان بطور اعتراض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیش کیا کرتے ہیں۔سو ناظرین نے اس جگہ سے سمجھ لیا ہوگا کہ یہی خواہش استغفار، فخر انسان ہے۔جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفارا اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے نہ انسان اور اندھا ہے نہ سوجا کھا اور نا پاک ہے نہ طیب۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۳) خوب یاد رکھو! کہ دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اس کا فضل نہ ہوتو دوسرے دن جا کر عیسائی ہو جاوے یا کسی اور بے دینی میں مبتلا ہو جاوے۔اس لئے ہر وقت اس کے فضل کے لئے دُعا کرتے رہو۔اور اس کی استعانت چاہوتا کہ صراط مستقیم پر تمہیں قائم رکھے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے بے نیاز ہوتا ہے وہ شیطان ہو جاتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان استغفار کرتا رہے تا کہ وہ زہر اور جوش پیدا نہ ہو جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) تو بہ استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو استغفار کرتا ہے اسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔البدر جلدے نمبر ۵ مورخه ۶ فروری ۱۹۰۸ صفحه ۵)