تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 364
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة البقرة وہ مغرور اور متکبر ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ رجون ۱۹۰۳ صفحه (۱۷۸) عبودیت کا ستر یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے اپنے آپ کو لے آوے۔ جو خدا کی پناہ نہیں چاہتا ہے احمق ، حقیقت سے نا آشنا استغفار کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ جس قدر یہ لفظ پیارا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی پاکیزگی پر دلیل ہے وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی پرے ہے۔ اس سے معلوم : معلوم ہوتا ہے کہ آپ عاشق رضا ہیں اور اس میں بڑی بلند پروازی کے ساتھ ترقیات کر رہے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرتے ہیں اور اظہار شکر سے قاصر پا کر تدارک کرتے ہیں یہ کیفیت ہم کس ہم کس طرح ان عقل کے اندھوں اور مجذوم القلب لوگوں کو سمجھائیں ، ان پر وارد ہو تو وہ سمجھیں۔ جب ایسی حالت ہوتی ہے، احسانات الہیہ کی کثرت آکر اپنا غلبہ کرتی ہے تو روح محبت سے پر ہو جاتی ہے اور وہ اچھل اچھل کر استغفار کے ذریعہ اپنے قصور شکر کا تدارک کرتی ہے۔ یہ لوگ خشک منطق کی طرح اتنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ قومی جن سے کوئی کمزوری یا غفلت صادر ہو سکتی ہے وہ ظاہر نہ ہوں نہیں ! وہ ان قومی پر تو فتح حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کر کے استغفار کرتے ہیں کہ شکر نہیں کر سکتے ۔ یہ ایک لطیف اور اعلیٰ مقام ہے جس کی حقیقت سے دوسرے لوگ نا آشنا ہیں۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مؤرخه ۳۰ را پریل و ۱۰ رمتی ۱۹۰۴ء صفحه (۲) جب انسان کے نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو خدا اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے اور جیسے ماں بچے کو گود میں پرورش کرتی ہے اسی ہے اسی طرح وہ خدا کی گود میں پرورش پاتا ہے۔ اور یہی حالت ہے کہ خدا کا نور اس کے دل پر گر کر کل دنیاوی اثروں کو جلا دیتا ہے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر محسوس کرتا ہے لیکن ایسی حالت میں بھی اسے ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہئے کہ اب یہ طاقت مجھ میں مستقل طور پر پیدا ہوگئی ہے اور کبھی ضائع نہ ہوگی ۔۔۔۔۔ انسان کو جو روشنی عطا ہوتی ہے وہ بھی مستقل نہیں ہوتی ۔ بلکہ عارضی ہوتی ہے اور ہمیشہ اُسے اپنے ساتھ رکھنے کے لئے استغفار کی ضرورت ہے۔ انبیاء جو استغفار کرتے ہیں ۔ اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے۔ کہ وہ ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اور ان کو خطرہ لگا رہتا ہے کہ نور کی جو چادر ہمیں عطا عطا کی گئی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ چھن جاوے ۔۔۔۔ کوئی نبی جس قدر زیادہ استغفار کرنے والا ثابت ہوگا اُسی قدر اس کا درجہ بڑا اور بلند ہوگا۔ لیکن جس کو یہ حالت حاصل نہیں تو وہ خطرہ میں ہے۔ اور ممکن ہے کہ کسی وقت اُس سے وہ چادر حفاظت کی چھین لی جاوے کیونکہ نبیوں کو بھی وہ مستعار طور پر ملتی ہے اور وہ پھر استغفار کے