تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 343

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۳ سورة البقرة ( ہوتا ہے ) جیسے صبح کا ایک خاص وقت ہے، اس وقت میں خصوصیت ہے وہ دوسرے اوقات میں نہیں۔اسی طرح پر دُعا کے لئے بھی بعض اوقات ہوتے ہیں جب کہ ان میں قبولیت اور اثر پیدا ہوتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۷ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۳) دُعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے۔اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں۔(۱) ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر تو حید پر پختگی حاصل ہو۔کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مُرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ تا دُعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو (۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔(۴) چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رویا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۲) (ایاما حق بات یہی ہے کہ جیسے حکیم مطلق نے دواؤں میں باوجود انضباط قوانین قدرتیہ کی تاثیرات رکھی ہیں ایسا ہی دُعاؤں میں بھی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ تجارب صحیحہ سے ثابت ہوتی ہیں اور جس مبارک ذات علت احلل نے استجابت دعا کو قدیم سے اپنی سنت ٹھہرایا ہے اسی ذات قدوس کی یہ بھی سنت ہے کہ جو مصیبت رسیدہ لوگ ازل میں قابل رہائی ٹھہر چکے ہیں وہ انھیں لوگوں کے انفاس پاک یا دُعا اور توجہ اور یا ان کے وجود فی الارض کی برکت سے رہائی پاتے ہیں جو قرب اور قبولیت انہی کے شرف سے مشرف ہیں۔(آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۸) میں کہتا ہوں کہ دُعا جیسی کوئی چیز نہیں۔دنیا میں دیکھو! بعض خر گدا ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر روز شور ڈالتے رہتے ہیں اُن کو آخر کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو قادر اور کریم ہے جب یہ اڑ کر دُعا کرتا ہے تو پالیتا ہے۔کیا خدا انسان جیسا بھی نہیں؟ یہ قاعدہ یا درکھو کہ جب دُعا سے باز نہیں آتا اور اس میں لگا رہتا ہے تو آخر دُعا قبول ہو جاتی ہے۔مگر یہ بھی یادر ہے کہ باقی ہر قسم کی دُعائیں طفیلی ہیں اصل دُعائیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کرنی چاہئیں۔باقی دُعا ئیں خود بخود قبول ہو جائیں گی۔کیونکہ گناہ کے دور ہونے سے برکات آتی ہیں۔یوں دُعا قبول نہیں ہوتی جو نری دنیا ہی کے واسطے ہو۔اس لئے پہلے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے دُعائیں کرے۔اور وہ سب سے بڑھ کر دُعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے جب یہ دُعا کرتا رہے گا