تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 323

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ سورة البقرة پیدا ہو جاتے ہیں۔ پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہوا سے چاہئے کہ دعا کرے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۴ صفحه ۶) اگر دُعا اپنے اختیار میں ہوتی تو انسان جو چاہتا کر لیتا اسی لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ فلاں دوست یا رشتہ دار کے حق میں ضرور فلاں بات ہو ہی جاوے گی بعض وقت با وجود سخت ضرورت محسوس کرنے کے دُعا نہیں ہوتی اور دل سخت ہو جاتا ہے چونکہ اس کے سر سے لوگ واقف نہیں ہوتے اس لئے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اس پر ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر جَفَّ الْقَلَمُ والی ( یعنی مسئلہ تقدیر جس رنگ میں سمجھا گیا ہے ) بات ٹھیک ہے۔ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کے علم میں سب سے ضرور ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ فلاں کام ضرور ہی کر دیوے اگر ان لوگوں کا یہی اعتقاد ہے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ سب کچھ ہو چکا اور ہماری محنت اور کوشش بے سود ہے تو دردسر کے وقت علاج کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں؟ پیاس کیلئے ٹھنڈا پانی کیوں پیتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ انسان کے تردد پر بھی کچھ نہ کچھ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ دُعا عمدہ شیء ہے اگر توفیق ہو تو ذریعہ مغفرت کا ہو جاتی ہے اور اسی کے ذریعہ سے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ مہربان ہو جاتا ہے۔ دُعا کے نہ کرنے سے اول زنگ دل پر چڑھتا ہے، پھر قساوت پیدا ہوتی ہے، پھر خدا سے اجنبیت ، پھر عداوت پھر نتیجه سلب ایمان ہوتا ہے۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۱۸-۱۹ مؤرخہ ۸-۱۶ امتی ۱۹۰۴ صفحه ۳) جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے۔ صرف ایک دُعا ہی ذریعہ خدا شناسی کا ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ ، مورخہ ۸-۱۶ رمتی ۱۹۰۴ صفحه (۴) دُعا کی مثال ایک چشمہء شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے وہ جب چاہے اُس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دُعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس دُعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اسے کسی بد معاشی میں میسر آ سکتا ہے بیچ ہے۔ بڑی بات جو دُعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الہی ہے دُعا کے ذریعہ ہی انسان خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے اور اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے جب مومن کی دُعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے تو خدا کو بھی اُس پر رحم آ جاتا ہے اور خدا اُس کا متوتی ہو جاتا ہے اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الہی توتی کے بغیر انسانی زندگی