تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 319
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۹ سورة البقرة کہ جب ایسی دُعا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یا تو اُسے قبول کرتا ہے اور یا جواب دیتا ہے۔۔۔۔بات کر کے بتلا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔مکالمات الہیہ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان پر کلام جاری کر رہا ہے اور وہ ایسی طاقت اور شدت سے ہوتی ہے جیسے ایک فولادی میخ دھنستی جاتی ہے ایسی لطافت ہوتی ہے کہ گویا خدا کا کلام ہے۔(البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۸۶) دیکھو ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب اور بے قرار ہو کر دودھ کے لئے چلاتا ہے اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے حالانکہ بچہ تو دُعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اس کی چینیں دودھ کو جذب کر لاتی ہیں یہ ایک ایسا امر ہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کو اس کا تجربہ ہے بعض اوقات ایسا دیکھا گیا ہے۔کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسا اوقات ہوتا بھی نہیں لیکن جو نہی بچہ کی دردناک چیخ کان میں پہنچی فوراً دودھ اتر آیا ہے کہ جیسے بچہ کی ان چیخوں کو دودھ کے جذب اور کشش کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلا ہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اُس کو کھینچ لاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے میں نے اپنی طرف کھنچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کر سکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ میں قبولیت دعا کا نمونہ دکھانے کے لئے ہر وقت طیار ہوں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ /اگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دُعا کی تعلیم نہیں دی یہ دعا ایک ایسی شے ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے۔اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے لیکن جو قدم رکھتا ہے پھر دُعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔۔۔۔جب انسان خدا تعالیٰ سے متواتر دُعائیں مانگتا ہے تو وہ اور ہی انسان ہو جاتا ہے اس کی روحانی کدورتیں دور ہو کر اس کو ایک قسم کی راحت اور سرور ملتا ہے اور ہر قسم کے تعصب اور ریا کاری سے الگ ہو کر وہ تمام مشکلات کو جو اس کی راہ میں پیدا ہوں برداشت کر لیتا ہے خدا کے لئے ان سختیوں کو جو دوسرے برداشت نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے برداشت کرتا ہے تب خدا تعالیٰ جو رحمن رحیم خدا ہے اور سراسر رحمت ہے اس پر نظر کرتا ہے اور اس کی ساری کلفتوں اور کدورتوں کو سرور سے بدل دیتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۱ صفحه ۴،۳)