تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 313
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۳ سورة البقرة نہیں ہوں کہ جس نے جنگ کی بلکہ مشرب حسن پر ہوں کہ جس نے جنگ نہ کی ، میں نے سمجھا کہ روزہ کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ میں نے چھ ماہ تک روزے رکھے۔اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ انوار کے ستونوں کے ستون آسمان پر جارہے ہیں، یہ امر مشتبہ ہے کہ انوار کے ستون زمین سے آسمان پر جاتے تھے یا میرے قلب سے۔لیکن یہ سب کچھ جوانی میں ہو سکتا تھا اور اگر اس وقت میں چاہتا تو چار سال تک روزہ رکھ سکتا تھا۔۔۔خدا تعالیٰ کے احکام دو قسموں میں تقسیم ہیں ایک عبادات مالی دوسرے عبادات بدنی عبادات مالی تو اسی کے لئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جس کے پاس نہیں وہ معذور ہیں۔اور عبادات بدنی کو بھی انسان عالم جوانی میں ہی ادا کر سکتا ہے ورنہ ۶۰ سال جب گزرے تو طرح طرح کے عوارضات لاحق ہوتے ہیں۔نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر بینائی میں فرق آجاتا ہے۔یہ ٹھیک کہا کہ پیری وصد عیب اور جو کچھ انسان جوانی میں کر لیتا ہے اُسی کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اُسے بڑھاپے میں بھی صد ہارنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔موئے سفید از اجل آرد پیام۔انسان کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجالا وے۔روزہ کے بارے میں خدا فرماتا ہے: وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لكُم یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کرو تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔(البدر جلد نمبر۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۲) میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبردست پیشگوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہوگی جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اُس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔(اور فرمایا فرقان کے بھی یہی معنے ہیں یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہوگی۔۔۔۔۔اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔۔۔۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا رہے۔۔۔۔۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدریر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کر دیں۔۔۔۔بڑے تأسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔اس