تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 304
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۴ سورة البقرة کرتے سزا دیتا ہے۔تا کہ حد سے نہ بڑھ جائیں جنہوں نے حد سے بڑھنا چاہا خدا نے وہیں انہیں تنبیہ کی۔اور یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ سزا اور تنبیہ اس شخص کے لئے بھی ، جسے دی جاتی ہے اور دوسروں کے واسطے بھی جو عبرت کی نگاہ سے اُسے دیکھتے ہیں بطور رحمت ہے۔کیونکہ اگر سزا نہ دی جاتی تو امن اُٹھ جاتا اور انجام کا نتیجہ بہت ہی برا ہوتا۔قانونِ قدرت پر نظر کرو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی میں یہ بات رکھی ہوئی ہے اور اس فطرتی نقش ہی کی بنا پر قرآن نے یہ فرمایا ہے: وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيوةٌ يَأُولِي الْأَلْبَابِ یعنی تمہارے تمدن کے قیام کے لئے قصاص کا ہونا ضروری ہے۔اگر افعال کے کچھ نتائج ہی نہیں ہوتے تو وہ افعال کیا ہوتے ؟ اور ان سے کیا غرض مقصود ہوتی ؟ غرض ضروری اور واقعی طور پر یہ سزا ئمیں نہیں ہیں جو یہاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک فل ہیں اصل سزاؤں کا اور اُن کی غرض ہے عبرت۔دوسرے عالم کے مقاصد اور ہیں اور وہ بالا تر اور بالاتر ہیں۔وہاں تو مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَةُ ( الزلزال:۹) کا انعکاسی نمونہ لوگ دیکھ لیں گے اور انسان کو اپنے مخفی در مخفی گناہوں اور عزیمتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی۔دنیا اور آخرت کی سزاؤں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ دنیا کی سزائیں امن قائم کرنے اور عبرت کے لئے ہیں اور آخرت کی سزائیں افعال انسانی کے آخری اور انتہائی نتائج ہیں وہاں اسے سزا ضرور ملنی ٹھہری کیونکہ اس نے زہر کھائی ہوئی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بدوں تریاق وہ اس زہر کے اثر سے محفوظ رہ سکے۔عاقبت کی سزا اپنے اندر ایک فلسفیانہ حقیقت رکھتی ہے جس کو کوئی مذہب بجز اسلام کے کامل طور پر بیان نہیں کر سکا۔الحکم جلد ۶ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۴) كتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقَا عَلَى الْمُتَّقِينَ ، فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿ فَمَنْ خَافَ مِنْ قُوصٍ (١٨٣ جَنَّفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ نَ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاوے تو اگر اس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو چاہئے کہ ماں باپ کے لئے اس مال میں سے کچھ وصیت کرے ایسا ہی خویشوں کے لئے بھی معروف طور پر جو شرع اور عقل کے رُو سے پسندیدہ ہے اور مستحسن سمجھا جاتا ہے وصیت کرنی چاہئے ، یہ خدا نے پر ہیز گاروں