تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 289

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۸۹ سورة البقرة سوایسا خادم جو ہم رنگ اور ہم طبیعت مخدوم ہو رہا ہے طبعی طور پر اُن سب باتوں سے منتظر ہوجاتا ہے جو اس کے مخدوم کو بری معلوم ہوتی ہیں وہ نافرمانی کو اس جہت سے نہیں چھوڑتا کہ اس پر سزا مترتب ہوگی اور تعمیل حکم اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس سے انعام ملے گا اور کوئی قول یا فعل اس کا اپنے اخلاق کا ملہ کے تقاضا سے صادر نہیں ہوتا بلکہ محض اپنے مخدوم حقیقی کی اطاعت کی وجہ سے جو اس کی سرشت میں رچ گئی ہے صادر ہوتا ہے اور بے اختیار اسی کی طرف اور اس کی مرضیات کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال کا پھیر نا خواہ نخواہ واجب نہیں جانتا اور نہ طمانچہ کی جگہ طمانچہ مارنا اس کو لا بلا ضروری معلوم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے ایک رنگ دل سے فتویٰ پوچھتا ہے جو اس وقت خاص میں اس کے محبوب حقیقی کی مرضی کیا ہے اور اس بات کے لئے کوئی معقول وجہ تلاش کرتا ہے کہ کس طریق کے اختیار کرنے میں زیادہ تر خیر ہے جو موجب خوشنودی حضرت باری جل شانہ ہے آیا عفو میں یا انتقام میں؟ سو جو عمل موجودہ حالت کے لئے قرین بصواب ہو اسی کو بروئے کار لاتا ہے۔اسی طرح اس کی بخشش اور عطا بھی سخاوت جمیلہ کے تقاضا سے نہیں ہوتی بلکہ اطاعت کامل کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی اطاعت کے جوش سے وقت موجودہ میں خوب سوچ لیتا ہے کہ کیا اس وقت اس طرز کی سخاوت یا ایسے شخص پر احسان و مروّت مقرون بہ مرضی مولیٰ ہوسکتی ہے اور اگر نامناسب دیکھتا ہے تو ایک حبه خرچ نہیں کرتا اور کسی ملامت کنندہ کی علامت سے ہرگز نہیں ڈرتا غرض احمقانہ تقلید سے وہ کوئی کام بھی نہیں کرتا بلکہ سچی اور کامل محبت کی وجہ سے اپنے آقا کا مزاج دان ہو جاتا ہے اور یکرنگی اور اتحاد کی روشنی جو اس کے دل میں ہے وہ ہر ایک تازہ وقت میں تازہ طور پر اس کو سمجھا دیتی ہے جو اس خاص وقت میں کیوں کر اور کس طرز سے کوئی کام کرنا چاہیئے جو مخدوم حقیقی کے منشاء کے مطابق ہو اور چونکہ اس کو اپنے منعم حقیقی سے ایک تعلق ذاتی پیدا ہو جاتا ہے اس لئے اطاعت اور فرمانبرداری اس کے سر پر کوئی آزار رساں بوجھ نہیں ہوتا بلکہ وہ فرمانبرداری اس کے ایک امر طبیعی کے حکم میں ہو جاتی ہے جو بالطبع مرغوب اور بلا تصنع و تکلف اس سے صادر ہوتی رہتی ہے اور جیسی اللہ جل شانہ کو اپنی خوبی اور عظمت محبوب بالطبع ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اس کے لئے محبوب بالطبع ہو جاتا ہے اور اپنے مخدوم حقیقی کی ہر ایک عادت و سیرت اس کی نظر میں ایسی پیاری ہو جاتی ہے کہ جیسی خود اس کو پیاری ہے۔سو یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جن کے سینے محبت غیر سے بالکل منزہ وصاف ہو جاتے ہیں اور خدائے تعالی کی رضا مندی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر ایک وقت جان قربان کرنے کو طیار رہتے ہیں۔