تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 286
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ کتاب میں بیان کر دیا ہے۔اُن پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے۔اور نیز اُس کے بندوں کی بھی لعنت۔سورة البقرة ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۲۳۴) قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ایک غایت درجہ کا غیبی اور سخت درجہ کا نا دان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔مثلاً زمانہ حال کے مہذ بین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔لیکن قرآن شریف کفار کو سنائنا کران پر لعنت بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے: أُولبِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَلِدِينَ فِيهَا ( البقرة : ١٢٣) - أوتيكَ يَلْعَنْهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللعنون - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۵ حاشیه) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کے کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے اور اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کے مرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے کیونکہ جو کچھ بنوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے الفاظ یہ بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۹) اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَا اَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيحِ وَالسَّحَابِ (۱۶۵ المُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَايْتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے اختلاف اور ان کشتیوں کے چلنے میں جو