تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 285
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۵ سورة البقرة سے منہ پھیر لیوے تو اس کی مثال ایسی ہو جاتی ہے جیسا کہ کوئی شخص ان کھڑکیوں کو بند کر د یوے جو آفتاب کی طرف تھیں اور کچھ شک نہیں کہ ان کے بند کرنے کے ساتھ ہی ساری کو ٹھٹری میں اندھیرا پھیل جائے گا۔اور وہ روشنی جو محض آفتاب سے ملتی ہے یک لخت دور ہو کر ظلمت پیدا ہو جائے گی۔اور وہی ظلمت ہے جو ضلالت ر جہنم سے تعبیر کی جاتی ہے۔کیونکہ دکھوں کی وہی جڑ ہے اور اس ظلمت کا دور ہونا اور اس جہنم سے نجات پانا اگر قانون قدرت کے طریق پر تلاش کی جائے تو کسی کے مصلوب کرنے کی حاجت نہیں بلکہ وہی کھڑکیاں کھول دینی چاہئیں جو ظلمت کی باعث ہوئی تھیں۔کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ہم درحالیکہ نور پانے کی کھڑکیوں کے بند رکھنے پر اصرار کریں کسی روشنی کو پاسکتے ہیں؟ ہر گز نہیں سو گناہ کا معاف ہونا کوئی قصہ کہانی نہیں جس کا ظہور کسی آئندہ زندگی پر موقوف ہو۔اور یہ بھی نہیں کہ یہ امور محض بے حقیقت اور مجازی گورنمنٹوں کی نافرمانیوں اور قصور بخشی کے رنگ میں ہیں بلکہ اس وقت انسان کو مجرم یا گنہ گار کہا جاتا ہے کہ جب وہ خدا سے اعراض کر کے اس روشنی کے مقابلہ سے پرے ہٹ جاتا اور اس چمک سے ادھر ادھر ہو جاتا ہے جو خدا سے اُترتی اور دلوں پر نازل ہوتی ہے۔اس حالت موجودہ کا نام خدا کی کلام میں جناح ہے جس کو پارسیوں نے مبدل کر کے گناہ بنالیا ہے اور جنح جو اس کا مصدر ہے اس کے معنے ہیں میل کرنا اور اصل مرکز سے ہٹ جانا۔پس اس کا نام جناح یعنی گناہ اس لئے ہوا کہ انسان اعراض کر کے اس مقام کو چھوڑ دیتا ہے جو الہی روشنی پڑنے کا مقام ہے اور اس خاص مقام سے دوسری طرف میل کر کے ان نوروں سے اپنے تئیں دور ڈالتا ہے جو اس سمت مقابل میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ایسا ہی مجرم کا لفظ جس کے معنے بھی گناہ ہیں جرم سے مشتق ہے اور جرم عربی زبان میں کاٹنے کو کہتے ہیں پس مُجرم کا نام اس لئے جرم ہوا کہ جرم کا مرتکب اپنے تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے کاٹتا ہے اور باعتبار مفہوم کے جرم کا لفظ جناح کے لفظ سے سخت تر ہے کیونکہ جناح صرف میل کا نام ہے جس میں کسی طرح کا ظلم ہو مگر جُرم کا لفظ کسی گناہ پر اس وقت صادق آئے گا کہ جب ایک شخص عمد أخدا کے قانون کو توڑ کر اور اس کے تعلقات کی پرواہ نہ رکھ کر کسی ناکردنی امر کا دیدہ و دانسته ارتکاب (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۹،۷۸) کرتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّتَهُ لِلنَّاسِ في الكتب أولبِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنْهُمُ اللَّعِنُونَ یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی اُن کھلی کھلی تعلیمات اور ہدایتوں کو لوگوں پر پوشیدہ رکھتے ہیں جن کو ہم نے اپنی