تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 284

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۴ سورة البقرة (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳) نیکی کر سکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔یہ آپ ہی کی سنت مسلمانوں میں اب تک جاری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت کہا جاتا ہے انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔یعنی ہم خدا کے ہیں اور خدا کا مال ہیں اور اسی کی طرف ہمارا رجوع ہے۔سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلمے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے پھر دوسروں کے لئے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہو گیا۔اگر آنجناب ہیویاں نہ کرتے اور لڑکے پیدا نہ ہوتے تو کیوں کر معلوم ہوتا کہ آپ خدا کی راہ میں اس قدر فدا شدہ ہیں کہ اولاد کو خدا کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۰۰) جب میں آپ کی ان تکلیفوں کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی ان کریمانہ قدرتوں کو جن کو میں نے بذات خود آزمایا ہے اور جو میرے پر وارد ہو چکی ہیں تو مجھے بالکل اضطراب نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خداوند کریم قادر مطلق ہے اور بڑے بڑے مصائب شدائد سے مخلصی بخشتا ہے۔اور جس کی معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہے ضرور اس پر مصائب نازل کرتا ہے تا اُسے معلوم ہو جاوے کہ کیوں کر وہ نومیدی سے امید پیدا کر سکتا ہے۔غرض فی الحقیقت وہ نہایت ہی قادر وکریم ورحیم ہے۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۲۷ جدید ایڈیشن مکتوب نمبر ۱۵ بنام حضرت خلیفہ اول) کو کیسے عوارض شدیدہ ہوں خدا تعالیٰ کے فضل کی راہیں ہمیشہ کھلی ہیں۔اس کی رحمت کا امیدوار رہنا چاہئے۔ہاں اس وقت اضطراب میں تو بہ واستغفار کی بہت ضرورت ہے۔یہ ایک نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے کہ جو شخص کسی بلا کے نزول کے وقت میں کسی ایسے عیب اور گناہ کو تو بہ نصوح کے طور پر ترک کر دیتا ہے جس کا ایسی جلدی سے ترک کرنا ہر گز اس کے ارادہ میں نہ تھا تو یہ عمل اس کے لئے ایک کفارہ عظیم ہو جاتا ہے اور اس کے سینہ کے کھلنے کے ساتھ ہی اس بلا کی تاریکی کھل جاتی ہے اور روشنی امید کی پیدا ہو جاتی ہے۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۹۸ جدید ایڈیشن مکتوب نمبر ۶۳ بنام حضرت خلیفہ اول) اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَابِدِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ۔۱۵۹ یہ بات نہایت صاف اور ظاہر ہے کہ چونکہ انسان خدا کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے اس کا تمام آرام کا اور ساری خوشحالی صرف اسی میں ہے کہ وہ سارا خدا کا ہی ہو جائے۔اور حقیقی راحت بھی ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک انسان اس حقیقی رشتہ کو جو اس کو خدا سے سے مکمن قوت سے حتی فعل میں نہ لاوے۔لیکن جب انسان خدا