تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 270
سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ' بیٹے فوت ہوئے تھے آخر بشریت ہوتی ہے۔غم کا پیدا ہونا ضروری ہے مگر ہاں صبر کرنے والوں کو پھر بڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں کا منشا یہی ہے کہ انسان رضا بالقضاء سیکھے۔جو شخص اپنے ہاتھ سے آپ تکلیف میں پڑتا ہے اور خدا کے لئے ریاضات اور مجاہدات کرتا ہے۔وہ اپنے رگ، پیٹھے کی صحت کا خیال بھی رکھ لیتا ہے اور اکثر اپنی خواہش کے موافق ان اعمال کو بجالاتا ہے۔اور حتی الوسع اپنے آرام کو مد نظر رکھتا ہے۔مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان پڑتا ہے اور کوئی ابتلا آتا ہے تو وہ رگ اور پٹھے کا لحاظ رکھ کر نہیں آتا۔خدا کو اس کے آرام اور رگ ، پٹھے کا خیال مد نظر نہیں ہوتا۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے۔اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اسی واسطے اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: 11) میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بشارت نہیں دی مگر وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ۔۔۔۔۔میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی برکتیں اور حمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا کو راضی کر سکتا ہے۔نہیں تو اگر خدا کے ساتھ شریک بن جاوے اور اپنی مرضی کے مطابق اسے چلانا چاہے تو یہ ایک خطر ناک راستہ ہوگا۔جس کا انجام ہلاکت ہے۔ہماری جماعت کو منتظر رہنا چاہئے کہ اگر کوئی ترقی کا ایسا موقع آ جاوے تو اس کو خوشی سے قبول کیا جاوے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۵) یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے۔وَلَنَبْلُونَكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوفِ جو فرمایا تو اس مقام پر وہ اپنی منوانا چاہتا ہے۔کبھی کسی قسم کا خوف آتا ہے اور کبھی بھوک آتی ہے اور کبھی مالوں میں کمی واقع ہوتی ہے تجارتوں میں خسارہ ہوتا ہے اور کبھی ثمرات میں کمی ہوتی ہے اولا د ضائع ہوتی ہے اور ثمرات برباد ہو جاتے ہیں اور نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں ایسی صورتوں میں خدا تعالیٰ کی آزمائش ہوتی ہے اُس وقت خدا اپنی شان حکومت دکھانا چاہتا ہے اور اپنی منوانا چاہتا ہے اس وقت صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اُس پر خوش ہو جاتا ہے کوئی شکوہ اور بدلتی نہیں کرتا۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے